زیارت میں لیویز فورس نے ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 5 مشتبہ افغان دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کرلیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندھار سے ہے۔
آپریشن سپیرا رغہ لیویز چیک پوسٹ کے قریب کیا گیا، جہاں مشتبہ افراد کو گھیر کر حراست میں لیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ کارروائی مکمل طور پر لیویز فورس کی اعلیٰ انٹیلی جنس صلاحیت اور فیلڈ ٹیموں کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے۔ آپریشن میں ضلعی انتظامیہ نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
بھاری اسلحہ، بارودی مواد اور مواصلاتی آلات برآمد
گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و بارودی مواد برآمد ہوا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک بڑی تخریبی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ برآمد شدہ سامان میں شامل ہیں:
11 ہینڈ گرینیڈز
15 ایس ایم جی گرینیڈز
3 سب مشین گنز
2 ایم فور رائفلز (پارٹس کی شکل میں)
9 ایم فور میگزینز
14 ایس ایم جی میگزینز
420 ایس ایم جی راؤنڈز
230 ایم فور راؤنڈز
1 کلو بارودی مواد
1 گرینیڈ لانچر
2 آر پی جی راکٹس
6 وائرلیس سیٹس
4 موبائل فونز
13 ایمونیشن بیگز
16 پاور سیلز
ایک سوزوکی کیری وین
ایک موٹر سائیکل
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا لٹریچر
یہ بھاری مقدار میں ملنے والا سامان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دہشت گرد کسی بڑی کارروائی کی تیاری میں مصروف تھے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مبارکباد
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کامیاب آپریشن پر لیویز فورس اور ضلعی انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ لیویز جیسی مقامی فورسز صوبے کے امن کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے مطابق بروقت اقدامات نے دہشت گردوں کے خطرناک عزائم کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سیکورٹی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
مزید گرفتاریاں متوقع
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش جاری ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں سرگرم دیگر دہشت گرد گروہوں کے بارے میں بھی اہم انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ کارروائی بلوچستان میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم اور حوصلہ افزا قدم قرار دی جا رہی ہے۔