امریکی صدر ٹرمپ نے پاک افغان کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے کو بہتر انداز میں سنبھال رہا ہے اور وہ اس تنازع میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتے۔
وائٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی میں کردار ادا کریں گے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ مداخلت کر سکتے ہیں، تاہم پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات خوشگوار ہیں اور موجودہ صورتحال میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور افغانستان کے ساتھ معاملات کو مؤثر طریقے سے سنبھال رہا ہے۔ اسی لیے وہ اس معاملے میں براہِ راست کردار ادا نہیں کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک عظیم وزیرِاعظم اور باصلاحیت جنرل موجود ہیں، جن کی وہ بے حد عزت کرتے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں مضبوط قیادت ہے جو حالات کو احسن انداز میں چلا رہی ہے۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کی موجودہ پالیسیوں سے مطمئن نہیں، تاہم آئندہ چند دنوں میں مزید مذاکرات متوقع ہیں اور امریکا ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتا، لیکن بعض اوقات حالات ایسے رخ اختیار کر لیتے ہیں جہاں سخت فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔