خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ Benjamin Netanyahu کی حکومت کو ایک بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور وزیراعظم کی سیاسی بقا خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق Knesset کی ہاؤس کمیٹی نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بل کے حق میں 8-0 کی واضح اکثریت سے ووٹ دے کر اسے اگلے مرحلے کیلئے منظور کر لیا ہے۔
یہ بل اب پارلیمنٹ میں پہلی ریڈنگ کیلئے پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی مزید قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
حکومتی اتحاد میں دراڑیں گہری ہوگئیں
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت حکومتی اتحاد کے اندر بڑھتے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔
کمیٹی چیئرمین کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بل میں فی الحال انتخابات کی کوئی حتمی تاریخ شامل نہیں کی گئی، تاہم قانون سازی کے آخری مراحل میں اس کا تعین کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ستمبر سے اکتوبر 2026 کے درمیان انتخابات کرانے کی مختلف تاریخیں زیر غور ہیں۔
نیتن یاہو کیلئے خطرے کی گھنٹی
اگر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل حتمی طور پر منظور ہو جاتا ہے تو اسرائیلی قانون کے تحت پانچ ماہ کے اندر نئے انتخابات کرانا لازم ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ Benjamin Netanyahu اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہے ہیں اور وہ ہر قیمت پر قبل از وقت انتخابات سے بچنا چاہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ سیاسی بحران ان کی حکومت کیلئے سب سے بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
عوامی اور سیاسی ردعمل
اسرائیل میں اپوزیشن جماعتوں نے اس پیش رفت کو حکومت کے خلاف عوامی عدم اعتماد کا اظہار قرار دیا ہے۔
دوسری جانب حکومتی اتحاد کے رہنما صورتحال کو سنبھالنے اور اتحادی جماعتوں کو ساتھ رکھنے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اسرائیلی عوام کی جانب سے شدید بحث جاری ہے، جہاں کچھ حلقے فوری انتخابات کے حق میں ہیں جبکہ بعض افراد سیاسی عدم استحکام پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر اسرائیل میں نئے انتخابات ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف ملکی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کی سلامتی، فلسطین پالیسی اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران نے حکومتی اتحاد کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے اور آنے والے ہفتے اسرائیلی سیاست کیلئے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بل کی منظوری اسرائیلی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
ان کے مطابق اگر حکومتی اتحاد اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہا تو نیتن یاہو کو قبل از وقت انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان کے سیاسی مستقبل کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں اسرائیل کا سیاسی عدم استحکام عالمی طاقتوں کی بھی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے