ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایران کے حملے، ایران کا 160 امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ

ریاض / تہران / تل ابیب:امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد تہران کی جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایرانی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے مرکزی دفتر اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 160 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 787 تک پہنچنے کی اطلاع ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اسرائیل سمیت بعض عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی مراکز اور سفارتی مقامات پر حملوں کا سلسلہ جاری بتایا جا رہا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق چار روز سے جاری اسرائیلی اور امریکی کارروائیوں میں 787 ایرانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم امریکا میں قائم ایک تنظیم کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران میں 742 شہری ہلاک ہوئے، جن میں 176 بچے بھی شامل ہیں۔
سعودی عرب کے حکام کے مطابق ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے کو دو بغیر پائلٹ طیاروں کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ بھڑکی اور معمولی نوعیت کا نقصان ہوا۔دوسری جانب پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی گذرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا بھر میں تیل کی مجموعی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری عسکری مہم تقریباً چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور واشنگٹن تہران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے۔
تاہم اس خبر کی تاحال ایرانی سرکاری حلقوں کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے مجلس خبرگان کا اجلاس جاری ہے اور نئے رہنما کے چناؤ میں تقریباً ایک ہفتہ درکار ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی مذہبی اور سیاسی قیادت کے اندرونی مشاورتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے، تاہم سرکاری ذرائع کی خاموشی کے باعث مجموعی صورتحال بدستور غیر واضح اور قیاس آرائیوں کی زد میں ہے۔
ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں سے نیا حملہ کر دیا ہے، جبکہ پاسداران انقلاب نے باقاعدہ طور پر ’’آپریشن وعدہ صادق چار‘‘ کی سولہویں لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق اسرائیل کی جانب بڑی تعداد میں بیلسٹک نوعیت کے میزائل داغے گئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا ہدف مخصوص عسکری اور اہم تزویراتی مقامات ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ میزائل حملوں کے ساتھ بڑی تعداد میں بغیر پائلٹ طیارے بھی اسرائیل کی سمت روانہ کیے گئے ہیں تاکہ مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب زور دار دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاستہائے متحدہ کا قونصل خانہ دبئی میں بغیر پائلٹ طیارے کے حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں عمارت کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی اور آسمان کی طرف سیاہ دھواں بلند ہوتا دکھائی دیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے، حالانکہ تہران بات چیت کی خواہش ظاہر کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم Truth Social پر تحریر کیا کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام، فضائیہ، بحریہ اور قیادت سب تباہ ہو چکے ہیں اور اب وہ مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن ان کے بقول اس مرحلے پر بات چیت کا وقت گزر چکا ہے۔