بیجنگ: چین نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مخالفت کی ہے۔
ایران میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بیٹے کی بطور نئے سپریم لیڈر تعیناتی کے ردعمل میں چین نے کہا کہ یہ ایران کا آئینی فیصلہ ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ چین دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے کسی بھی بہانے کی مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام لازم ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ری پبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو دھمکی دی ہے۔
اسرائیل نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بناتا رہے گا۔
یاد رہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ایران کے سپریم لیڈر کے عہدے کے لیے 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے نامزد کیا ہے۔
اس حوالے سے مذہبی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو مجلسِ خبرگان کے معزز نمائندوں کی فیصلہ کن رائے کے بعد ایران کے موجودہ نظام کے تیسرے رہنما کے طور پر مقرر اور متعارف کرایا گیا ہے۔