جنگ بندی کی باتیں دم توڑ گئیں؟ امریکا اور ایران کے درمیان پھر تصادم

خصوصی رپورٹ غلام مرتضیٰ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران کے مختلف عسکری اور دفاعی اہداف پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی کارروائی میں کیا نشانہ بنایا گیا؟

United States Central Command کے مطابق امریکی صدر Donald Trump کی ہدایت پر ایران کے خلاف فوجی آپریشن مکمل کیا گیا۔

سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے اور امریکی افواج و بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

امریکی فوج کے مطابق کارروائی میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشنز، ریڈار تنصیبات اور دیگر عسکری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کا بھرپور جواب

دوسری جانب Islamic Revolutionary Guard Corps نے امریکی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے اور اردن کے العزرق ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اردن کے اڈے پر متعدد اہم اہداف بشمول ایف-35 طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

بحرین کا ردعمل

بحرین کے حکام نے ایرانی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا اور کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

تاہم مختلف دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آسکی۔

ایران میں دھماکوں کی اطلاعات

ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس، سیریک اور جزیرہ قشم کے علاقوں میں ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں مواصلاتی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جن میں ایک کمیونیکیشن ٹاور اور پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک شامل ہیں۔

خطے میں تشویش بڑھ گئی

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو کشیدگی پورے خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

خصوصاً بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات ممکنہ خطرات کی زد میں آ سکتی ہیں۔

عالمی منڈیوں پر اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تیل منڈیوں اور سمندری تجارت پر پڑ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور کسی بھی بڑی عسکری پیش رفت سے توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ متعدد صارفین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے اہم عنصر غلط اندازے کا خطرہ ہے۔ کسی بھی محدود حملے یا غلط فہمی کے نتیجے میں تنازع تیزی سے وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے میں کشیدگی ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اگر درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے