خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
ایران نے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک ایران کے خلاف کسی امریکی فوجی کارروائی میں تعاون، مدد یا سہولت فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
عباس عراقچی کی سخت وارننگ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
امریکی حملے کا دعویٰ
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود بعض آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی مزید تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
امریکا کا ردعمل سامنے نہیں آیا
تازہ دعووں کے باوجود امریکا کی جانب سے ابھی تک ایرانی حکام کے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اسی طرح آزاد یا غیرجانبدار ذرائع سے بھی اس مبینہ حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث اس واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے سخت بیانات اور ممکنہ عسکری اقدامات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کے امن، عالمی تجارت اور علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران کا تازہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کو صرف دوطرفہ تنازع تک محدود نہیں سمجھ رہا بلکہ ایسے ممالک کو بھی متنبہ کر رہا ہے جو امریکا کو عسکری یا لاجسٹک تعاون فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم شمالی ایران میں امریکی حملے کے ایرانی دعوے کی تاحال آزاد ذرائع سے تصدیق یا امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اس معاملے میں مزید معلومات کا انتظار ضروری ہے۔
آپ کے خیال میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خطے کے امن اور عالمی استحکام پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔