رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
موبائل فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ آج ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ دفتر، تعلیمی اداروں، کاروبار اور گھریلو معاملات سمیت تقریباً ہر شعبے میں ڈیجیٹل اسکرینوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم ماہرینِ چشم خبردار کر رہے ہیں کہ اسکرین کے سامنے طویل وقت گزارنے سے آنکھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اب تک ایسی کوئی مضبوط سائنسی شہادت موجود نہیں کہ ڈیجیٹل اسکرینوں سے خارج ہونے والی بلو لائٹ آنکھوں کو مستقل نقصان پہنچاتی ہے، لیکن اسکرین کو مسلسل قریب سے دیکھنے کی عادت آنکھوں کے عضلات کو تھکا دیتی ہے، جس سے بینائی پر عارضی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
زیادہ اسکرین ٹائم سے کون سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین استعمال کرنے والے افراد میں درج ذیل علامات عام دیکھی جاتی ہیں:
- آنکھوں کا خشک ہونا یا پانی آنا
- دھندلا دکھائی دینا
- آنکھوں کی شدید تھکن
- بار بار سر درد
- بعض افراد میں چکر آنا یا توازن متاثر ہونا
- بچوں میں نظر کمزور (مایوپیا) ہونے کے امکانات میں اضافہ
اصل مسئلہ کیا ہے؟
امریکن آپٹومیٹرک ایسوسی ایشن کے صدر اور ماہرِ چشم ڈاکٹر اسٹیون ریڈ کے مطابق اصل مسئلہ آنکھوں کے اندر نہیں بلکہ ان عضلات میں ہوتا ہے جو مسلسل قریب کی چیز پر فوکس کرتے رہتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص ہلکا وزن کئی گھنٹے تک ایک ہی حالت میں اٹھائے رکھے۔ وزن زیادہ نہ ہونے کے باوجود عضلات تھک جاتے ہیں، اسی طرح مسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں کے عضلات بھی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں درد، دھندلا پن اور سر درد جیسی شکایات سامنے آتی ہیں۔
20-20-20 اصول اپنائیں
ماہرین آنکھوں کو آرام دینے کے لیے 20-20-20 رول اپنانے کی سفارش کرتے ہیں۔
اس اصول کے مطابق:
- ہر 20 منٹ بعد اسکرین سے نظریں ہٹا لیں۔
- تقریباً 20 فٹ دور کسی چیز کو دیکھیں۔
- کم از کم 20 سیکنڈ تک اسی چیز پر نظر رکھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معمول آنکھوں کے عضلات کو آرام دیتا ہے اور تھکن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
پلکیں زیادہ جھپکائیں
طبی ماہرین کے مطابق عام حالات میں انسان ایک منٹ میں تقریباً 18 سے 22 مرتبہ پلک جھپکتا ہے، جس سے آنکھیں قدرتی طور پر نم رہتی ہیں۔
لیکن موبائل یا کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے یہ تعداد کم ہو کر صرف 3 سے 7 مرتبہ فی منٹ رہ جاتی ہے، جس کی وجہ سے آنکھیں خشک ہونے لگتی ہیں۔ اگر یہ مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے مصنوعی آنسو (آئی ڈراپس) استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اپنی ورک اسپیس میں یہ تبدیلیاں کریں
ماہرین آنکھوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے چند آسان مشورے بھی دیتے ہیں:
- ممکن ہو تو بڑی اسکرین استعمال کریں۔
- فونٹ سائز نسبتاً بڑا رکھیں۔
- اسکرین سے تقریباً ایک بازو کے فاصلے پر بیٹھیں۔
- اسکرین کو آنکھوں کی سطح سے تھوڑا نیچے رکھیں۔
- کمرے میں مناسب روشنی کا انتظام کریں تاکہ اسکرین کی چمک آنکھوں پر زیادہ اثر نہ ڈالے۔
سونے سے پہلے موبائل استعمال نہ کریں
ماہرین کے مطابق رات کے وقت ڈیجیٹل اسکرینوں سے خارج ہونے والی روشنی دماغ کو زیادہ متحرک رکھ سکتی ہے، جس سے نیند آنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔
اسی لیے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ سونے سے کم از کم ایک سے دو گھنٹے پہلے موبائل، لیپ ٹاپ یا دیگر اسکرینوں کا استعمال بند کر دیں، اسکرین کی برائٹنس کم رکھیں اور رات کے وقت ویڈیوز دیکھنے کے بجائے آڈیو بکس یا پوڈکاسٹس سننے کی عادت اپنائیں۔
بچوں کے لیے خصوصی احتیاط
چلڈرنز ہاسپٹل آف فلاڈیلفیا سے وابستہ ماہرِ چشم ڈاکٹر عائشہ ملک کے مطابق بچوں میں زیادہ اسکرین ٹائم اور مسلسل قریب کی چیزوں پر نظر رکھنے سے نظر کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچے ایک وقت میں مسلسل 20 منٹ سے زیادہ اسکرین استعمال نہ کریں، درمیان میں وقفہ ضرور دیں اور انہیں روزانہ کچھ وقت کھلی فضا میں کھیلنے کی ترغیب دیں، کیونکہ یہ عادت آنکھوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ چشم کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اسکرینیں جدید زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، اس لیے ان سے مکمل اجتناب ممکن نہیں۔ تاہم اگر مناسب وقفے، درست نشست، مناسب روشنی اور آنکھوں کی دیکھ بھال کی عادت اپنائی جائے تو اسکرین ٹائم کے زیادہ تر منفی اثرات سے مؤثر انداز میں بچا جا سکتا ہے۔