مشرقِ وسطیٰ میں جنگی خطرات بڑھ گئے، تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کا بڑا فوجی ردعمل

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ Saudi Arabia نے اپنی تیل تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں کے مبینہ ٹھکانوں پر جوابی فضائی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ کارروائی قومی سلامتی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی کارروائی United States Central Command کے مکمل تعاون اور رابطے کے ساتھ انجام دی گئی۔ سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ مسلح افواج نے عراق میں ان مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر سعودی تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث عناصر سے وابستہ تھے۔

چار مقامات پر فضائی حملوں کا دعویٰ

رپورٹس کے مطابق سعودی رائل ایئر فورس نے عراق کے چار مختلف علاقوں بصرہ، واسط، کربلا اور نینویٰ میں کارروائیاں کیں۔ سعودی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود ایران نواز ملیشیائیں مسلسل سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں کر رہی تھیں، جن کا اب جواب دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری، شہریوں اور اہم قومی تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے اور مستقبل میں بھی کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کا مؤقف

سعودی وزارت خارجہ نے بھی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل حقِ دفاعِ خود کے مطابق کیا گیا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے عراق سے ڈرون حملے کر کے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد محدود اور ہدفی کارروائی کی گئی۔

کشیدگی بڑھانے کا ارادہ نہیں، مگر دفاع کریں گے

سعودی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت خطے میں کشیدگی بڑھانے کی خواہاں نہیں، تاہم اگر اس کی سلامتی، خودمختاری یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

خطے پر ممکنہ اثرات

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اگر سعودی عرب اور ایران سے وابستہ گروہوں کے درمیان جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تیل کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

اہم وضاحت

اس خبر میں عراق میں حملوں، ان کے اہداف اور حملوں کے ذمہ داروں سے متعلق معلومات سعودی حکام اور عرب میڈیا کے بیانات پر مبنی دعوے ہیں۔ اس متن میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی ہے۔