دنیا نے آپ کی منافقت دیکھ لی، وعدہ خلافی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں؛ ایران

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے جنگ بندی مذاکرات میں تعطل پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے اس کی وجہ امریکا کی ہٹ دھرمی کو قرار دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے جاری بیان میں جنگ بندی مذاکرات سے انکار کی وجہ بتائی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے، صدر ٹرمپ مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور وعدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہی تین وجوہات امریکا کے ساتھ حقیقی اور جامع مذاکرات کی راہ میں بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ جنہیں ختم کیے بغیر جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہو سکتے۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران نے مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اب بھی کرتا ہے۔ دنیا آپ کی نہ ختم ہونے والی منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان آبنائے ہرمز پر اتفاق رائے تک جنگ بندی میں توسیع جاری رہے گی۔

 ایرانی صدر کا یہ بیان مذاکرات میں موجود رکاوٹوں کو واضح طور پر سامنے لاتا ہے۔ ان کا منافقت اور وعدہ خلافی کا الزام امریکا پر لگانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران ابھی مکمل اعتماد نہیں کر رہا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ثالثی میں پاکستان کی کوششیں قابل تحسین ہیں، مگر دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر یہ تین مسائل (ناکہ بندی، دھمکیاں اور وعدہ خلافی) حل نہ ہوئے تو مذاکرات آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔

خطے میں امن کی امید ابھی برقرار ہے، مگر دونوں طرف سے لچک کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنا سفارتی کردار جاری رکھنا چاہیے۔

آپ کو ایرانی صدر کا یہ بیان کیسا لگا؟ کیا یہ مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا یا دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!