آبنائے ہرمز پر کشیدگی، بڑے ممالک نے ہاتھ کھڑے کر دیے،امریکہ تنہا

واشنگٹن: ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں اتحادی ممالک کی جانب سے معاونت کی درخواستیں مسترد کیے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط اور خودمختار ریاست ہونے کے ناطے امریکا اپنے فیصلے خود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اسے کسی دوسرے ملک کے سہارے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد موجودہ صورتحال میں غلط سمت میں جا رہا ہے اور اسے اس نازک موقع پر امریکا کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میکرون جلد ہی اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔

امریکی صدر نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ممالک امریکا کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں، تاہم مشکل گھڑی میں انہوں نے عملی تعاون فراہم نہیں کیا۔

یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چین پہلے ہی آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔