بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر تشویشناک خبر سامنے آئی ہے، جہاں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے فروری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا میں درخواست جمع کرا دی ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمت میں ایک روپے چونسٹھ پیسے فی یونٹ تک اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس درخواست پر نیپرا اتھارٹی اکتیس مارچ کو باقاعدہ سماعت کرے گی، اور اگر اس کی منظوری دے دی گئی تو ملک بھر کے صارفین، بشمول کراچی کے شہریوں، پر چودہ ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق فروری کے دوران مجموعی طور پر سات ارب انہتر کروڑ ساٹھ لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جن میں سے سات ارب بیالیس کروڑ ستر لاکھ یونٹس تقسیم کار کمپنیوں کو فراہم کی گئیں۔
مزید بتایا گیا کہ تقسیم کار کمپنیوں کو فراہم کی جانے والی بجلی کی اوسط لاگت آٹھ روپے سینتیس پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ مجموعی پیداواری لاگت آٹھ روپے پندرہ پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ فروری کے لیے مقرر کردہ ریفرنس لاگت چھ روپے تہتر پیسے فی یونٹ تھی، جس کے مقابلے میں موجودہ لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔