پاکستان کی معیشت ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں آنے والے مالی سال کا بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ مشکل فیصلوں کا امتحان بن چکا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے جاری مشاورت اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں عوام کو کچھ کڑوی مگر ناگزیر حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ سے متعلق ابتدائی سطح کی ورچوئل بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں مالی نظم و ضبط اور اخراجات میں کمی کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی جاری رکھنا معیشت پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے حکومت کو اس پالیسی پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ ادارے کی رائے میں توانائی اور ایندھن کی قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق بروقت ایڈجسٹ کرنا مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
مزید برآں، آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ بجلی اور توانائی کے نرخوں کے تعین سے متعلق ریگولیٹری اداروں کی سفارشات پر فوری اور مکمل عملدرآمد کیا جائے تاکہ مالی خسارے کو قابو میں رکھا جا سکے۔
آئندہ بجٹ کے لیے ایک اور اہم نکتہ ٹیکس نظام میں اصلاحات ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس چھوٹ، رعایتوں اور استثنیٰ کو محدود کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ہدف یہ رکھا گیا ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں ہر سال کم از کم ایک فیصد اضافہ یقینی بنایا جائے۔
حکومتی اخراجات میں کمی بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہے، جہاں غیر ضروری خرچ گھٹانے اور مالی نظم و ضبط بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایات بھی سامنے آئی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ مشاورت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ آنے والا بجٹ محض ایک مالی دستاویز نہیں ہوگا بلکہ معیشت کو استحکام دینے کے لیے سخت فیصلوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔