عدالت کا عمران خان سے اہم شخصیت کی ملاقات کل 2 بجے کرانے کا حکم

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے کی۔ دوران سماعت نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل کا آغاز کیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سلمان صفدر سے متفرق درخواست سے متعلق استفسار کیا، جس پر وکیل نے اپنے مؤکل عمران خان سے ملاقات کی اجازت طلب کی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت جاری کی کہ سلمان صفدر کی عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ ملاقات کل دوپہر 2 بجے کرائی جائے۔

دوران سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر نے کیس کی مزید سماعت پیر تک مقرر کرنے کی استدعا کی، تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ مقرر کرتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وکیل پہلے اپنے مؤکل سے ملاقات کر لیں، اپیل بھی مقرر کر دی جائے گی، اور اگر دلائل کا آغاز ہو گیا تو عدالت سات روز کے اندر اپیل پر فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گی۔

سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ 31 مارچ کو عدالت کی جانب سے ایک حکم جاری کیا گیا تھا، جس کے تناظر میں وہ مزید رہنمائی چاہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے ملاقات کی اجازت دے دی۔

کیس کی آئندہ سماعت اور اپیل کی باقاعدہ تاریخ کا اعلان بعد میں متوقع ہے۔