امریکی صدر کی گزشتہ رات کی جارحانہ پریس کانفرنس کے بعد ایران میں عوامی سطح پر غیرمعمولی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں شہریوں نے ممکنہ محاذ آرائی کی صورت میں ملک کے دفاع کے لیے خود کو پیش کر دیا۔
ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں گزشتہ 10 روز کے دوران ایک کروڑ 20 لاکھ افراد نے رضاکارانہ طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کرالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز اس عمل میں غیرمعمولی تیزی دیکھنے میں آئی، جو عوامی جذبات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے فوج کا حصہ بنیں، جس پر ملک بھر میں بھرپور اور فوری ردعمل سامنے آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹریشن کا عمل تاحال جاری ہے اور مختلف علاقوں سے شہریوں کی بڑی تعداد اس میں شریک ہو رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے جس میں صوبہ سیستان سے تعلق رکھنے والے افراد کو جنگی تیاریوں اور دفاع وطن کے عزم کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جو موجودہ صورتحال میں عوامی یکجہتی اور جذبہ حب الوطنی کی عکاسی کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ ایران میں عوامی سطح پر سامنے آنے والا یہ ردعمل ممکنہ صورتحال کے لیے قومی تیاری کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔