رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
Donald Trump کی جانب سے ایران کی “تہذیب ختم کرنے” سے متعلق سخت دھمکیوں نے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ ایک برطانوی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس کشیدگی کے دوران کئی ممالک ممکنہ جوہری تصادم کے خدشات سے شدید پریشان تھے۔
رپورٹ کے مطابق United States اور Iran کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران مغربی سفارتی حلقوں میں یہ خوف پایا جاتا تھا کہ اگر صورتحال مکمل جنگ میں تبدیل ہو گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا تک پھیل سکتے ہیں۔
جوہری تصادم اور عالمی بحران کے خدشات
برطانوی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام، Israel کی سلامتی اور امریکا کی سخت پالیسیوں نے خطے کو انتہائی حساس صورتحال سے دوچار کر دیا تھا۔
بعض یورپی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کسی غلط اندازے، اشتعال انگیزی یا محدود فوجی کارروائی کے نتیجے میں تنازع ایک بڑے جنگی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس میں عالمی طاقتیں بھی ملوث ہو سکتی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق خدشات میں توانائی بحران، عالمی فوجی اتحادوں کی مداخلت اور حتیٰ کہ ممکنہ جوہری تصادم کے امکانات بھی شامل تھے۔
ایشیائی ممالک بھی شدید پریشان رہے
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ Japan، China اور South Korea جیسے ایشیائی ممالک بھی صورتحال پر گہری تشویش رکھتے تھے، کیونکہ Strait of Hormuz کے متاثر ہونے کی صورت میں عالمی توانائی سپلائی شدید بحران کا شکار ہو سکتی تھی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کشیدگی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکی مؤقف کیا تھا؟
دوسری جانب امریکی حکام نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا تھا، نہ کہ مکمل جنگ یا وسیع تباہی۔
تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق Donald Trump کے سخت بیانات اور فوجی دھمکیوں نے عالمی سطح پر بے چینی میں اضافہ کر دیا تھا۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کشیدگی نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں معمولی فوجی تصادم بھی عالمی سطح پر بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق جوہری پروگرام، اسرائیل ایران تنازع اور خلیجی خطے کی حساس جغرافیائی حیثیت دنیا کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں رکھے ہوئے ہے۔