لاہور:متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کو مسلسل دوسرے روز بھی فضائی نوعیت کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے شامل تھے۔ اماراتی حکام ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دے رہے ہیں، تاہم تہران نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی موقف کے مطابق ان کے ملک کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی نہیں کی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ اگر واقعی کوئی کارروائی کی جاتی تو اسے چھپایا نہیں جاتا بلکہ باقاعدہ طور پر اس کا اعلان کیا جاتا، لہٰذا ان الزامات کی کوئی بنیاد نہیں۔
ادھر اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ تازہ حملے سے ایک روز قبل بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے تھے جن میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ فجیرہ میں واقع ایک اہم تیل تنصیب میں ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ حملے کے نقصانات کے حوالے سے تفصیلی معلومات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کمزور جنگ بندی کے سائے میں مزید گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسی تناظر میں امریکا نے “پروجیکٹ فریڈم” کے تحت آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی بحفاظت نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے ایک نیا بحری آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے حساس اور اہم راستہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کی مجموعی تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں پر فوری اور گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے یا انہیں دھمکی آمیز صورتحال سے دوچار کر رہا ہے، جس کے باعث سمندری تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور توانائی کی عالمی سپلائی چین دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
اسی صورتحال کے جواب میں امریکا نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں اور بحری تجارتی سرگرمیوں پر سخت پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کی درآمدات اور برآمدات بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
مجموعی طور پر خطے میں موجودہ حالات ایک بار پھر بڑے تصادم کے خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اگرچہ بظاہر جنگ بندی برقرار ہے، تاہم زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ کشیدگی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور کسی بھی وقت صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔