واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات اگلے دو دنوں میں پاکستان میں ہو سکتے ہیں۔ اگر ڈیل ہو گئی تو وہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ۱۰ روزہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے ساتھ امن معاہدے پر بھی بات کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ملاقات ویک اینڈ پر ہو سکتی ہے۔ اگر ڈیل نہیں ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب جنگ بندی میں مزید توسیع کی ضرورت نہیں ہے۔ ایران پہلے جن باتوں پر آمادہ نہیں تھا، اب آمادہ ہے۔
ٹرمپ کے بقول ایران نے اتفاق کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا اور نہ ہی اپنے پاس رکھے گا بلکہ اپنا جوہری ڈسٹ بھی ہمارے حوالے کر دے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب نہ تو ایران کے لیڈرز رہے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس فضائیہ، بحریہ اور فوج باقی رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھے مذاکرات کر رہے ہیں۔ پاکستان بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ اگر ایران سے ڈیل ہو گئی تو معاہدے پر دستخط کرنے پاکستان جا سکتا ہوں۔
انہوں نے پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے جنگ بندی مذاکرات میں کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں عظیم انسان ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ لبنانی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم سے آج ٹیلیفون پر اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں جنگ بندی پر راضی ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں نیتن یاہو اور لبنانی صدر سے ملنے جا رہا ہوں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا پاکستان آنے کا اشارہ نہ صرف اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو بھی سراہتا ہے۔
اگر واقعی معاہدہ ہو گیا تو یہ خطے کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ البتہ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا کہ “اگر ڈیل نہیں ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی” اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذاکرات ابھی بھی نازک مرحلے میں ہیں۔
پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ امید ہے کہ آنے والے دو دنوں میں مثبت پیش رفت ہوگی اور خطے میں امن قائم ہو جائے گا۔
آپ کو ٹرمپ کا یہ بیان اور پاکستان آنے کا امکان کیسا لگا؟ کیا ایران کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں