بیلجیم میں محض پندرہ سالہ لڑکے نے علم کی دنیا میں ایسی تاریخ رقم کر دی جو برسوں تک مثال بنی رہے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی ہے کہ وہ جسے چاہے غیر معمولی ذہانت اور بے پناہ صلاحیتوں سے نواز دے۔ ایسا ہی ایک روشن نام بیلجیم کے لارنٹ سائمنز کا ہے، جس نے کم عمری میں وہ کارنامہ انجام دیا جو اکثر لوگ پوری زندگی میں بھی حاصل نہیں کر پاتے۔
لارنٹ سائمنز نے صرف پندرہ برس کی عمر میں یونیورسٹی آف انتروپ سے کوانٹم طبعیات میں پی ایچ ڈی مکمل کر کے انسانی ذہانت اور علمی جستجو کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ اس کا تحقیقی مقالہ، جس کا عنوان “Bose polarons in superfluids and supersolids” ہے، جدید طبیعیات کے نہایت پیچیدہ اور اہم موضوعات پر مبنی ہے۔
علم کے اس غیر معمولی سفر پر ہی اکتفا نہ کرتے ہوئے لارنٹ سائمنز اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دوسری پی ایچ ڈی کے لیے میونخ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کر چکا ہے۔ اس کے نئے تحقیقی مقالے کا عنوان ہی اس کی بلند پروازی کا عکاس ہے:’’بڑھاپے کو شکست دے کر سپر انسان تخلیق کرنا‘‘۔
لارنٹ کے والدین بیٹے کی ان شاندار کامیابیوں پر بجا طور پر فخر محسوس کر رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اور سائنس دان اس غیر معمولی ذہانت کو حیرت اور تحسین کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ کامیابی نہ صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر صلاحیت، محنت اور درست رہنمائی یکجا ہو جائیں تو عمر محض ایک عدد بن کر رہ جاتی ہے۔