امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک بڑے تجارتی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے دوطرفہ تجارت اور باہمی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ معاہدے کے تحت امریکا نے بھارت پر عائد جوابی ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے بدلے میں بھارت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ امریکی مصنوعات پر عائد تمام ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹیں ختم کر دے گا، جس سے امریکی اشیا کو بھارتی منڈی تک آسان رسائی حاصل ہو سکے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق بھارت نے روس سے تیل کی خریداری روکنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ مستقبل میں بھارت کو امریکا اور ممکنہ طور پر وینیزویلا سے زیادہ مقدار میں تیل خریدنے کی اجازت دی جائے گی۔
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات خریدنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے امریکی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
واضح رہے کہ یوکرین جنگ کے بعد روس پر عائد یورپی اور امریکی پابندیوں کے باوجود بھارت مسلسل روس سے رعایتی نرخوں پر تیل خریدتا رہا تھا۔ اس معاملے پر امریکا کی جانب سے بارہا اعتراضات کیے گئے، تاہم بھارت کا مؤقف تھا کہ امریکا خود بھی روس سے پیٹرولیم مصنوعات خریدتا ہے اور یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔
اسی پس منظر میں صدر ٹرمپ نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ٹیرف میں اضافہ کر دیا تھا، جو اب نئے معاہدے کے بعد کم کر دیا گیا ہے۔
19