واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) امریکا میں ۱۰ سائنسدان پراسرار حالات میں ہلاک یا لاپتہ ہو گئے ہیں اور حیرت انگیز طور پر ان سب کا تعلق ملک کے جوہری پروگرامز یا سرکاری اداروں سے تھا جس کی وجہ سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی ہلاکت اور گمشدگی کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان کیسز کے حوالے سے ایک میٹنگ میں شریک تھے اور امید کرتے ہیں کہ ڈیڑھ ہفتے میں اس پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ان سائنسدانوں کا تعلق سرکاری اداروں سے ہونا محض ایک اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔
درج ذیل ان ۱۰ سائنسدانوں کے نام دیے جا رہے ہیں اور انہیں آخری بار کس حالت میں دیکھا گیا
۱) اسٹیون گارسیا اسٹیون گارسیا ایک ۴۸ سالہ سرکاری کانٹریکٹر تھے جنہیں آخری بار ۲۸ اگست ۲۰۲۵ کو البوکرک میں اپنے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ پیدل چل رہے تھے اور ایک ہینڈ گن ان کے ہاتھ میں تھی۔ اسٹیون نے کنساس سٹی نیشنل سیکیورٹی کیمپس میں پراپرٹی کے محافظ کے طور پر کام کیا جو جوہری ہتھیاروں کے لیے غیر جوہری اجزاء تیار کرنے والا ادارہ ہے۔
۲) فرینک مائیوالڈ ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے محقق فرینک مائیوالڈ ۴ جولائی ۲۰۲۴ کو ۶۱ سال کی عمر میں مردہ پائے گئے۔ عوامی سطح پر موت کی کوئی وجہ فراہم نہیں کی گئی۔
۳) کارل گرلمیر ۱۶ فروری ۲۰۲۶ کو کارل گرلمیر کو ان کے گھر کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ وہ Caltech میں ایک فلکیاتی طبیعیات دان تھے جنہوں نے ناسا کے ساتھ مل کر نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں اور پانی کی تلاش کی۔ قتل کی کوئی واضح وجہ اب تک سامنے نہیں آئی۔
۴) مائیکل ڈیوڈ ہکس مائیکل کی موت ۳۰ جولائی ۲۰۲۳ کو ۵۹ سال کی عمر میں ہوئی۔ وہ جیٹ پروپلژن لیبارٹری (جے پی ایل) میں ماہر طبیعیات تھے جو شہابی پتھروں کے ماہر تھے۔ مائیکل کی موت کی وجہ بھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
۵) مونیکا جیکنٹو رضا مونیکا جیکنٹو رضا جیٹ پروپلژن لیبارٹری میں ایک اور ملازم تھیں جو ۲۲ جون ۲۰۲۵ کو ایک ہائکنگ کے دوران غائب ہو گئیں۔ مبینہ طور پر غائب ہونے سے پہلے اپنے کولیگ سے ملنے سے تھوڑا دور تھیں۔
۶) میلیسا کیسیاس میلیسا کیسیاس ۲۶ جون ۲۰۲۵ کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوئیں۔ میلیسا لاس الاموس نیشنل لیبارٹری میں انتظامی معاون تھیں۔ وہ اس دن اپنے گھر سے دفتر کا کام کر رہی تھیں۔ بعد ازاں وہ اپنی بیٹی کو لنچ پر لے گئیں اور پھر غائب ہو گئیں۔ ملیسیا کو آخری بار اپنے فون، بٹوے یا چابی کے بغیر ہائی وے پر چلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
۷) انتھونی شاویز میلیسا کی طرح ہی لاس الاموس کے ایک اور سابق ملازم انتھونی شاویز ۴ مئی ۲۰۲۵ کو لاپتہ ہو گئے۔ انہیں آخری بار اپنے گھر سے باہر پیدل جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
۸) ولیم نیل میک کیلینڈ ۲۶ فروری ۲۰۲۶ کو ایئر فورس کے ایک ریٹائرڈ جنرل، ولیم نیل میک کاسلینڈ اپنے نیو میکسیکو گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئے۔
۹) نونو لوریرو جوہری طبیعیات دان (نیوکلیئر فزیسٹ) اور ایم آئی ٹی کے پروفیسر نونو لوریرو کو ۱۵ دسمبر ۲۰۲۵ کو ان کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
۱۰) جیسن تھامس جدید میڈیسن کمپنی Novartis کے ایک محقق جیسن تھامس ۱۲ دسمبر ۲۰۲۵ کو لاپتہ ہو گئے۔ ان کی لاش ۱۷ مارچ ۲۰۲۶ کو ایک جھیل سے برآمد ہوئی۔
صحافی غلام مرتضیٰ کا تجزیہ ۱۰ سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکت اور گمشدگی ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، خاص طور پر جب ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جوہری پروگرام، ناسا اور لاس الاموس جیسی حساس لیبارٹریوں سے تھا۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے، ایک طرف تو عوامی تشویش کو کم کرنے کی کوشش ہے، لیکن دوسری طرف ڈیڑھ ہفتے میں رپورٹ مانگنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
اگر ان کیسز میں کوئی منظم سازش ثابت ہوئی تو یہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ البتہ ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
امید ہے کہ تحقیقات جلد مکمل ہوں گی اور حقیقت سامنے آئے گی۔
آپ کو یہ پراسرار واقعات کیسے لگ رہے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا کوئی بڑی سازش؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!