تل ابیب/تہران: اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بار پھر سخت بیانات دیتے ہوئے جنگی تیاریوں کا عندیہ دیا ہے اور امریکا کے ساتھ قریبی تعاون کا بھی اظہار کیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل کے وزیرِ دفاع Israel Katz نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور حتمی اقدام کے لیے امریکی اشارے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق جیسے ہی امریکا کی جانب سے گرین سگنل ملے گا، ایران کو “تاریکی اور پتھر کے دور” میں دھکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ کارروائی پہلے سے زیادہ شدید اور مہلک ہوگی اور ایران کے اہم اور حساس اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے ایک انتہائی متنازع بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ممکنہ کارروائی کی صورت میں ایرانی قیادت کو براہ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب بعض رپورٹس میں ماضی کے حملوں اور ایرانی قیادت سے متعلق دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق واضح نہیں ہے اور مختلف بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال تیزی سے غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ عملی کارروائی کا انحصار متعدد عوامل، خصوصاً امریکا کے مؤقف پر ہوگا، لیکن اس نوعیت کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سفارتی حل کی گنجائش موجود ہے، تاہم جارحانہ بیانات مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کا کردار اس بحران کے رخ کا تعین کرے گا۔