خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج نے خطے کی سیاسی فضا کو گرما دیا ہے۔ 24 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں Pakistan Peoples Party سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جبکہ آزاد امیدواروں کی غیر معمولی کامیابی نے حکومت سازی کے عمل کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی 9 نشستیں جیت چکی ہے جبکہ Pakistan Muslim League (N) کے حصے میں 3 نشستیں آئی ہیں۔ ایک نشست پر Pakistan Tehreek-e-Insaf کے حمایت یافتہ امیدوار نے کامیابی حاصل کی جبکہ 5 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔
کس جماعت کی پوزیشن مضبوط؟
اگرچہ پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن وہ اب بھی سادہ اکثریت سے خاصی دور ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کیلئے 17 نشستوں کی ضرورت ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد امیدواروں، مذہبی جماعتوں اور چھوٹی سیاسی قوتوں کی حمایت آئندہ حکومت کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
آزاد امیدوار کیوں اہم ہوگئے؟
ہنزہ، غذر، گھانچے اور دیگر حلقوں میں آزاد امیدواروں کی کامیابی نے سیاسی منظرنامے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد امیدوار اب “کنگ میکر” کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور ان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے بڑی جماعتوں کے درمیان رابطے تیز ہونے کا امکان ہے۔
اہم کامیابیاں
پیپلز پارٹی نے اسکردو، شگر، نگر اور غذر کے متعدد حلقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے استور، غذر اور گھانچے میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔
دوسری جانب Majlis Wahdat-e-Muslimeen اور دیگر علاقائی و مذہبی جماعتوں نے بھی بعض حلقوں میں مضبوط کارکردگی دکھائی۔
انتخابی عمل
الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کیلئے 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے تھے جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث بیشتر علاقوں میں پولنگ کا عمل مجموعی طور پر پرامن رہا۔
عوامی ردعمل
نتائج کے بعد مختلف علاقوں میں کامیاب امیدواروں کے حامیوں نے جشن منایا جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی بحث کا سلسلہ جاری ہے۔
عوام کی بڑی تعداد ترقیاتی منصوبوں، روزگار، سیاحت اور بنیادی سہولیات کو نئی حکومت کیلئے اولین ترجیح قرار دے رہی ہے۔
ماہرین کی رائے
سیاسی ماہرین کے مطابق موجودہ نتائج واضح اکثریت کی بجائے مخلوط حکومت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں کی حمایت کے بغیر کسی بھی بڑی جماعت کیلئے حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ یہاں مقامی شخصیات اور علاقائی سیاست کا اثر قومی جماعتوں سے کم نہیں۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی بظاہر حکومت سازی کی دوڑ میں سب سے آگے ہے، تاہم اصل معرکہ اب نتائج کے بعد شروع ہوگا جہاں آزاد امیدواروں اور اتحادیوں کی حمایت فیصلہ کن حیثیت اختیار کرے گی۔