خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنی اہلیہ ایمان فاطمہ سے صلح کی گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں کے درمیان معاملات بہتر نہیں ہوئے اور طلاق کی قانونی کارروائی اپنی جگہ جاری ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ عرصہ قبل ایمان فاطمہ کے بھائی عون شیخ نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں خاندانوں کے درمیان صلح ہو گئی ہے اور یہ فیصلہ والدہ کے مشورے پر بہن اور بچے کے بہتر مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
رجب بٹ کی واضح تردید
رجب بٹ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں صلح کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اور ایمان فاطمہ کے درمیان جو کچھ ہو چکا ہے، اس کے بعد تعلقات پہلے جیسے نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی معاملات میں وقت ضرور لگتا ہے، لیکن طلاق ضرور ہو گی اور اس حوالے سے جاری کارروائی مکمل کی جائے گی۔
بیٹے کی ذمہ داری نبھانے کا اعلان
رجب بٹ نے مزید کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی تمام مالی ذمہ داریاں ہمیشہ پوری کریں گے کیونکہ یہ ایک باپ کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے عون شیخ اور ایمان فاطمہ سے اپیل کی کہ صلح سے متعلق جھوٹے یا گمراہ کن دعوے کرنے سے گریز کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر نئی بحث
رجب بٹ کے تازہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر صلح نہیں ہوئی تو رجب بٹ نے ایمان فاطمہ کو پھول کیوں بھیجے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ دونوں کے حالیہ بیانات سے مفاہمت کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
تاحال ایمان فاطمہ یا ان کے خاندان کی جانب سے رجب بٹ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کی ذاتی زندگی اکثر عوامی بحث کا موضوع بن جاتی ہے، تاہم ایسے معاملات میں تمام فریقین کے مؤقف کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ جب تک قانونی کارروائی مکمل نہ ہو اور متعلقہ فریقین کی جانب سے حتمی موقف سامنے نہ آئے، قیاس آرائیوں سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔
آپ کے خیال میں کیا مشہور شخصیات کی ذاتی زندگی کو سوشل میڈیا پر اس قدر زیرِ بحث لانا درست ہے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔