لاہور (انٹرٹینمنٹ اینڈ سوشل میڈیا ڈیسک – غلام مرتضیٰ) پاکستان کی مقبول ٹک ٹاکر اور انفلوئنسر علینہ عامر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک نازیبا ویڈیو پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر ڈیپ فیک قرار دیا ہے۔ اداکارہ نے وزیراعلیٰ پنجاب اور سائبر کرائم یونٹ (سی سی ڈی) سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ویڈیوز بنانے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
علینہ عامر نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے جذباتی انداز میں کہا: “میں گزشتہ ایک ہفتے سے خاموشی سے سب کچھ دیکھ اور سن رہی تھی۔ سینکڑوں پوسٹس دیکھیں کہ ‘علینہ عامر کی ویڈیو لیک ہو گئی’۔ میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اب مجبور ہو گئی ہوں کہ ایسے لوگوں کو ان کی زبان میں جواب دوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر ڈیپ فیک ہے اور اسے بدنام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ علینہ نے سوال اٹھایا کہ لوگ کسی کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، مگر تحقیق تو کریں کہ جو شیئر کر رہے ہیں وہ اصلی ہے بھی یا نہیں۔
اداکارہ نے سی سی ڈی پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے سہیل ظفر چھٹہ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور ڈیپ فیک ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل لڑکیوں کے ساتھ ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔
Famous tiktoker #AlinaAmir shared her response on her deep fake AI generated leak video, she has praised CM Punjab @MaryamNSharif and CCD on its performance against woman harassment pic.twitter.com/kEWglFGqdo
— Showbiz & News (@ShowbizAndNewz) January 25, 2026
علینہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آج کل نہ صرف مشہور شخصیات بلکہ بہت سی پرائیویٹ لڑکیوں کی بھی فیک ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں اور ان کے گھر والوں کو بھیج کر ان کی زندگیاں برباد کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے اپنے خاندان کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “الحمدللہ میری فیملی پڑھی لکھی ہے اور مجھ پر پورا بھروسہ کرتی ہے۔ میں ان کا بھروسہ کبھی نہیں توڑوں گی۔”
آخر میں علینہ عامر نے اعلان کیا کہ جو شخص بھی اس ویڈیو کو بنانے والے کے بارے میں ٹھوس معلومات فراہم کرے گا، اسے کیش پرائز دیا جائے گا۔ انہوں نے لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ خاموش نہ رہیں بلکہ اپنے لیے آواز اٹھائیں۔
سائبر کرائم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اب پاکستان میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے اور یہ نہ صرف مشہور شخصیات بلکہ عام لڑکیوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ سی سی ڈی کو فوری طور پر ایسی ویڈیوز کے خلاف ایک خصوصی یونٹ قائم کرنا چاہیے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تعاون لینا چاہیے۔
علینہ عامر کا یہ کھلا اور بہادر ردعمل قابلِ تحسین ہے۔ ڈیپ فیک ویڈیوز اب ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ بن چکے ہیں جو لڑکیوں کی عزت اور ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ علینہ کا مطالبہ درست ہے کہ سی سی ڈی اور پنجاب حکومت کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔
یہ معاملہ صرف ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر مشہور شخصیات بھی خاموش رہیں تو عام لڑکیوں کا کیا ہوگا؟ علینہ نے جو کیش پرائز کا اعلان کیا ہے، وہ ایک اچھا قدم ہے مگر اصل ذمہ داری ریاستی اداروں پر ہے کہ وہ اس رجحان کو روکیں۔
یہ وقت ہے کہ پاکستان میں ڈیپ فیک کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں اور ان پر فوری عملدرآمد ہو۔ علینہ جیسے اداکاروں کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آپ کو علینہ عامر کا یہ ردعمل کیسا لگا؟ کیا ڈیپ فیک ویڈیوز کے خلاف سخت قوانین بننے چاہئیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!