اسلام آباد/واشنگٹن ( غلام مرتضیٰ) امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک ایسی تصویر جاری کی ہے جو اربوں سال بعد سورج کے انجام اور زمین کے ممکنہ خاتمے کی دل دہلا دینے والی جھلک دکھاتی ہے۔ یہ تصاویر ہیلکس نیبولا (Helix Nebula) کی ہیں جو زمین سے ۶۵۰ نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور ایک مرتے ستارے کی باقیات پر مشتمل ہے۔
ناسا کے مطابق یہ نیبولا ایک ایسے ستارے کی باقیات ہے جو ہزاروں برس قبل اپنا ایندھن ختم کر چکا تھا۔ اس کے مرکز میں سفید بونے ستارے کی جگہ اب گرد اور گیس کا ایک وسیع خول پھیلا ہوا ہے جس کا قطر تین نوری برس سے زیادہ ہے۔
ماہرین فلکیات نے اس گیس کے دائرے کے اندر موجود حیرت انگیز ڈھانچوں کو تفصیل سے پیش کیا ہے۔ یہ ڈھانچے سورج جیسے ستاروں کے آخری مراحل میں بننے والے رنگین اور پیچیدہ بادل ہیں جو مرتے ستارے کی آخری سانسیں سمجھے جاتے ہیں۔
ناسا کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ ارب سال بعد ہمارا سورج بھی اسی مرحلے سے گزرے گا۔ سورج اپنا ایندھن ختم کر کے سرخ دیو (Red Giant) بن جائے گا، اس دوران اس کی سطح اتنی پھیل جائے گی کہ یہ زمین کے مدار تک پہنچ جائے گی اور زمین کو نگل لے گا۔ اس کے بعد سورج سکڑ کر سفید بونا بن جائے گا اور اس کے گرد وہی گرد اور گیس کا خول پھیلے گا جیسا کہ ہیلکس نیبولا میں دیکھا جا رہا ہے۔
یہ تصاویر نہ صرف سائنسی دلچسپی کا باعث ہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل پر بھی ایک خوفناک سوال اٹھاتی ہیں کہ اربوں سال بعد ہمارا گھر اور سورج دونوں ہی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائیں گے۔
ناسا کے سائنس دان ڈاکٹر کارلوس مارٹن کا کہنا ہے کہ ہیلکس نیبولا ہمارے سورج کے آئینہ کی طرح ہے۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ ہمارا ستارہ کس طرح ختم ہوگا اور زمین اس عمل میں کیسے غائب ہو جائے گی۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ عمل اتنا آہستہ ہوگا کہ انسانی تہذیب کے لیے براہ راست خطرہ نہیں، مگر یہ کائنات کے چکر کی ایک تلخ حقیقت ہے۔
ناسا کی یہ تصاویر محض سائنسی دریافت نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ اور وجودی سوال ہیں۔ اربوں سال بعد سورج کا پھیلاؤ اور زمین کا نگل جانا یہ بتاتا ہے کہ کائنات میں کوئی چیز مستقل نہیں۔ ہم جو آج اپنے سیارے کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں، وہ کل ملبے کا ایک ٹکڑا بھی نہیں رہے گا۔
یہ تصاویر ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسانی تاریخ چند لمحوں کی ہے جبکہ کائنات کے قوانین اربوں سال پر محیط ہیں۔ اس سے ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں، جنگوں اور نفرتوں کی بے معنی پن کا احساس ہونا چاہیے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے مختصر وقت میں کیا چھوڑ کر جائیں گے۔
آپ کو یہ تصاویر دیکھ کر کیا خیال آیا؟ کیا یہ مستقبل کا خوفناک منظر ہے یا کائنات کی خوبصورتی کا ایک اور رنگ؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!