برسلز (سائنس ڈیسک) ایک نئی طبی تحقیق نے انتہائی تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ جو لوگ ہفتے میں ایک بار بھی ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں، ان میں جلد موت کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہوتا ہے جو ایسے خواب بہت کم دیکھتے ہیں۔
یہ نتیجہ یورپی اکیڈمی آف نیورولوجی کے حالیہ کانگریس میں پیش کیے گئے ایک اہم مقالے سے سامنے آیا ہے جسے عالمی سطح پر توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ تحقیق کے لیے چار بڑے طویل مدتی مطالعوں کا ڈیٹا استعمال کیا گیا جن میں ۲۶ سے ۷۴ سال کی عمر کے ہزاروں افراد شامل تھے۔
شرکاء نے شروع میں بتایا کہ انہیں ڈراؤنے خواب کتنی بار آتے ہیں۔ اس کے بعد محققین نے ۱۸ سے ۱۹ سال تک ان کی صحت اور زندگی کے نتائج کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہفتہ وار بنیاد پر ڈراؤنے خواب دیکھنے والوں میں ۷۵ سال کی عمر سے پہلے موت کا خطرہ تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔
یہ نتیجہ اس وقت بھی برقرار رہا جب محققین نے عمر، جنس، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ اور دیگر جسمانی امراض جیسے عوامل کو مدنظر رکھا۔
ماہرین کے مطابق بار بار ڈراؤنے خواب نیند کے معیار کو شدید متاثر کرتے ہیں اور جسم میں اسٹریس ہارمونز جیسے کورٹیسول کی سطح کو مسلسل بلند رکھتے ہیں۔ یہ ہارمونز حیاتیاتی عمر کو تیز کرتے ہیں، خلیوں کی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور مجموعی طور پر جسم کو بوڑھا محسوس کرواتے ہیں۔
یہ پہلا بڑا مطالعہ ہے جس نے ڈراؤنے خوابوں اور قبل از وقت موت کے درمیان واضح تعلق کو ثابت کیا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ ڈراؤنے خواب محض ذہنی پریشانی کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم کی مجموعی صحت کے لیے ایک سنگین خطرے کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ جو لوگ ہفتہ وار بنیاد پر ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں، انہیں اسے صرف نیند کا معمولی مسئلہ نہ سمجھنا چاہیے۔ انہیں نیند کے ماہر، ماہر نفسیات یا مجموعی صحت کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ ذہنی دباؤ، نیند کے امراض اور دیگر ممکنہ صحت کے مسائل کو جلد پکڑا جا سکے۔
یہ تحقیق ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتی ہے کہ نیند صرف آرام نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان ایک اہم پل ہے۔ ہفتہ وار ڈراؤنے خواب دیکھنا کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ جسم کے اندر چل رہے شدید تناؤ اور حیاتیاتی تبدیلیوں کا واضح اشارہ ہے۔
اگر اسے نظر انداز کیا گیا تو یہ قبل از وقت موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ اپنی نیند کو سنجیدگی سے لیں اور ڈراؤنے خوابوں کو صحت کے خطرے کی گھنٹی سمجھیں۔ ڈاکٹروں اور ماہرین نفسیات کو بھی ان لوگوں کی جلد تشخیص اور علاج پر توجہ دینی چاہیے۔
آپ کو یہ تحقیق کیسی لگی؟ کیا آپ بھی ہفتہ وار ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!