بیجنگ :چین نے بھارت کی جانب سے وادی شکسگام پر کیے گئے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے اور بیجنگ کو وہاں انفرااسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پیر کے روز پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جس علاقے کا بھارت حوالہ دے رہا ہے وہ چین کی خودمختار سرزمین کا حصہ ہے۔
بھارتی اعتراض پر چینی ردِعمل
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی جانب سے شکسگام وادی میں چینی انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی اعتراض سے متعلق سوال کے جواب میں ماؤ ننگ نے کہا کہ چین اپنی سرزمین پر ترقیاتی سرگرمیاں انجام دینے میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شکسگام چین کا حصہ ہے اور اس معاملے پر کسی بیرونی اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ کا مؤقف
واضح رہے کہ جمعے کے روز بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ وادی شکسگام بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
بھارتی ترجمان نے 1963 میں ہونے والے چین پاکستان سرحدی معاہدے کو “نام نہاد، غیر قانونی اور کالعدم” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت نے اس معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ بھارت نہ تو چین پاکستان اقتصادی راہداری کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی شکسگام میں کسی قسم کی چینی سرگرمیوں کو۔
چین پاکستان سرحدی معاہدے کا حوالہ
چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں ایک باقاعدہ سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں خودمختار ریاستوں نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے اور کسی تیسرے فریق کو اس پر اعتراض کا حق حاصل نہیں۔
سی پیک سے متعلق چینی وضاحت
ماؤ ننگ نے واضح کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک خالصتاً اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینا اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے اصولی مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔
چین اور بھارت کے تعلقات کا پس منظر
یاد رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں۔
2020 میں ہمالیائی سرحد پر جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 جبکہ چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔
2024 میں دونوں ممالک نے سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا، جس کے بعد براہ راست پروازوں کی بحالی، سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافے جیسے اقدامات کیے گئے، تاہم بنیادی تنازعات اب بھی برقرار ہیں۔
اروناچل پردیش اور دیگر تنازعات
چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش پر بھی شدید اختلافات موجود ہیں، جسے چین زانگنان یا جنوبی تبت قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت ان دعوؤں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔
بیجنگ کی جانب سے اس خطے میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردِعمل سامنے آتا رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق شکسگام وادی پر چین کا دوٹوک مؤقف اس بات کا عندیہ ہے کہ بیجنگ اب سرحدی معاملات پر دفاعی کے بجائے جارحانہ سفارتی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس مسئلے کو دوبارہ اٹھانا دراصل اندرونی سیاسی دباؤ اور خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط دکھانے کی کوشش ہے شکسگام وادی پر چین کا سخت اور واضح مؤقف دراصل خطے میں طاقت کے نئے توازن کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارت ایک جانب چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات کرتا ہے، تو دوسری جانب کشمیر، سی پیک اور شکسگام جیسے حساس معاملات کو عالمی سطح پر اٹھا کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
چین کا یہ پیغام بالکل واضح ہے کہ وہ سرحدی معاملات میں کسی ابہام یا سفارتی نرمی کا قائل نہیں، اور پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو مکمل قانونی اور جائز سمجھتا ہے۔
یہ تنازع مستقبل میں چین، پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی جغرافیائی اور اسٹریٹجک کشیدگی کا شکار ہے۔