نیویارک:امریکا نے ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑی فوجی نقل و حرکت شروع کر دی ہے، جس میں جدید جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوس سے واپسی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکا کی ایک بڑی فوجی قوت ایران کے قریب روانہ کی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ تعیناتی احتیاطی تدبیر کے طور پر کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد صورتحال پر گہری نظر رکھنا ہے۔ ان کے مطابق امریکا فی الحال کسی حتمی کارروائی کا اعلان نہیں کر رہا، تاہم آئندہ حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس دنیا کے جدید ترین اور طاقتور ترین ہتھیار موجود ہیں، لیکن وہ نہیں چاہتے کہ کسی قسم کی جنگی صورتحال پیدا ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی سخت وارننگ کے بعد ایران میں پھانسیوں کا سلسلہ رک گیا۔ ان کے مطابق اگر ایران میں پھانسیاں جاری رہتیں تو امریکا فوجی کارروائی کرنے پر مجبور ہو جاتا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران میں 827 قیدیوں کی پھانسیاں رکوانے میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر جلد 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا، جس کا مقصد ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے قریب امریکی فوج کی تعیناتی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا لازمی طور پر حملہ کرے گا، تاہم امریکا اپنی بحری اور فضائی قوت کو مشرق وسطیٰ منتقل کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی دستے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ اس فورس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، متعدد جنگی بحری جہاز اور جدید جنگی طیارے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو امریکا حملہ کرے گا، اور یہ ممکنہ کارروائی ایران کے جوہری پروگرام سے بھی کہیں بڑی ہوگی۔ تاہم انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اگر ایران مذاکرات کرنا چاہے تو امریکا بات چیت کے لیے تیار ہے۔
21