کراچی کے قلب میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ، جہاں ہر روز ہزاروں لوگ اپنے روزگار اور ضروریات کے لیے آتے تھے، رات دس بج کر چھتیس منٹ پر خوفناک آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ یہ سانحہ نہ صرف سینکڑوں خاندانوں کو سوگ میں مبتلا کر گیا بلکہ 1200 سے زائد دکانداروں کو راتوں رات بے روزگار بھی کر دیا۔ آگ کی شدت اتنی شدید تھی کہ عمارت کے اندر جانے کے راستے مسدود ہو گئے، اور کولنگ کا عمل جاری رہنے کے باوجود ملبہ ہٹانے اور لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا:
“یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ گل پلازہ ہم سب کا جانا پہچانا مقام رہا ہے۔ جانی نقصان کا مطلب ہے کہ کئی خاندان تباہ ہو گئے، اور چلتے پھرتے کاروبار رات بھر میں راکھ ہو گئے۔”
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سانحہ میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ یہ رقم فوری طور پر فراہم کرنے کا آغاز کل سے ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، گل پلازہ کی عمارت کو مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا تاکہ متاثرہ تاجر اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔
تحقیقات اور احتساب کا واضح راستہ
آگ کی وجوہات ابھی تک حتمی طور پر سامنے نہیں آئیں، البتہ ابتدائی اندازہ شارٹ سرکٹ کا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جس میں ڈی آئی جی کراچی معاونت کریں گے۔ لاہور کی فرانزک لیبارٹری سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ انکوائری کسی کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں، بلکہ غلطیوں کو درست کرنے اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے ہے۔
“ذمہ داروں کو سزا ضرور ملے گی، مگر کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا۔ اگر تخریب کاری کے شواہد ملے تو کارروائی ہوگی، ورنہ ہم سبق سیکھیں گے۔”
فائر سیفٹی پر سخت اقدامات
سانحہ کے فوراً بعد فائر سیفٹی آڈٹ 2024 پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جن 145 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا تھا، ان میں ایمرجنسی راستوں، فائر الارم اور دیگر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ طویل مدتی فائر فائٹنگ اور حفاظتی پلان بھی تیار کیا جائے گا۔
ریسکیو کی بہادری اور قربانی
اس خوفناک آگ کو بجھانے میں 24 فائر بریگیڈز، 10 براوزرز، 4 اسنارکلز اور تقریباً 200 فائر فائٹرز (ایم سی اور ریسکیو 1122) نے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دن رات ایک کیا۔ افسوس کہ اس دوران ایک بہادر فائر فائٹر شہید بھی ہوا، جس کے والد بھی پیشہ ورانہ فرض کی انجام دہی میں شہید ہو چکے تھے۔
متاثرین کی بحالی کا جامع منصوبہ
ایک خصوصی اجلاس میں تاجروں، وزراء اور افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جس میں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور کمشنر کراچی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی معاوضے کی رقم اور بحالی کے طریقہ کار پر سفارشات دے گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بھی مسلسل رہنمائی اور تعاون کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام متاثرین سے تعزیت کا پیغام بھیجا اور کہا کہ “ہم سب مل کر اس سانحے سے اٹھ کھڑے ہوں گے”۔
یہ لمحہ غم کا ہے، مگر سندھ حکومت کا عزم ہے کہ ہر متاثرہ خاندان اور تاجر کو انصاف اور بحالی ملے گی۔ سانحہ گل پلازہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حفاظت اور احتیاط زندگی بچانے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور متاثرین کو صبر جمیل دے۔ آمین۔