اسلام آباد:وزارت خزانہ کی اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2025ء) کے دوران ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ملکی برآمدات بھی 5 فیصد کمی کے بعد 15.5 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا دسمبر کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم 810 ملین ڈالر رہا، جبکہ اسی عرصے میں درآمدات 12.3 فیصد اضافے کے ساتھ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ چھ ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 19.73 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر رہا۔
وزارت خزانہ کے مطابق ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور ایکسچینج ریٹ 278.7 روپے سے بڑھ کر 279.9 روپے ہو گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار (LSM) میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پرائمری سرپلس 3651 ارب روپے رہا۔
اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کا ٹیکس ریونیو 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ 6160 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ نان ٹیکس ریونیو میں 4.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 3581 ارب روپے رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.1 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ مالی سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی معاشی استحکام برقرار رہا اور حکومت نے توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ملکی معیشت کی رفتار برقرار رہے گی۔
وزارت خزانہ کے مطابق بہتر مالی نظم و ضبط نے معاشی استحکام کو تقویت دی ہے، رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ افراطِ زر قابو میں ہے اور بڑی صنعتوں کی پیداوار میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط، روپے کی قدر مستحکم ہے اور پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث پاکستانی مارکیٹ عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل ہو گئی ہے۔
22