پیٹرولیم مصنوعات پر صارفین سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد:وزارتِ پیٹرولیم نے قومی اسمبلی میں پیٹرولیم مصنوعات پر صارفین سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں کی تفصیلات پیش کر دیں، جن میں عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کی واضح تصویر سامنے آ گئی ہے۔

ایوان میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر صارفین سے مجموعی طور پر تین مختلف اقسام کے ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان تفصیلات کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر 78 روپے جبکہ پیٹرول پر 82 روپے ٹیکس عائد ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول دونوں پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کی جا رہی ہے۔

دستاویزات میں بتایا گیا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 75 روپے 41 پیسے پیٹرولیم لیوی عائد ہے، جبکہ اس کے علاوہ 2 روپے 50 پیسے کلائمٹ سپورٹ لیوی اور 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی صارفین سے وصول کی جا رہی ہے۔

محکمے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر 79 روپے 62 پیسے جبکہ فرنس آئل پر 77 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ پیٹرول پر اڑھائی روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی اور 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی لاگو ہے۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا کہ مٹی کے تیل پر 18 روپے 95 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل پر 15 روپے 37 پیسے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ فرنس آئل پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) بھی عائد ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی، پیٹرولیم لیوی اور کلائمٹ سپورٹ آرڈیننس 1961 کے تحت وصول کی جا رہی ہے، جبکہ کلائمٹ سپورٹ لیوی کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے کیا جا رہا ہے۔ یہ تفصیلات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس عوام کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔