وادی تیراہ کی ہجرت کا فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں یہ صدیوں پرانا عمل ہے، وزیر دفاع

اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں موسمِ سرما کے دوران نقل مکانی کوئی نیا یا غیر معمولی عمل نہیں بلکہ یہ ایک صدیوں پرانا معمول ہے، جو شدید برف باری کے باعث ہر سال دیکھنے میں آتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نقل مکانی کا پاک فوج کے کسی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع نے بتایا کہ اس بار بھی نقل مکانی سے قبل خیبرپختونخوا حکومت اور تیراہ کے عمائدین کے درمیان کامیاب جرگہ ہوا، جس کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر کے سرحدی علاقوں خصوصاً وادی تیراہ میں سردیوں کے دوران ہجرت ایک تاریخی حقیقت ہے، جس کا ذکر برطانوی دور کے گزٹیئرز میں بھی ملتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج اور وفاقی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ یہ نقل مکانی مکمل طور پر موسمی نوعیت کی ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق افغانستان سے ملحقہ وادیوں میں شدید برف باری کے باعث لوگ چند ماہ کے لیے نسبتاً محفوظ علاقوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اور گھروں میں ایک یا دو افراد چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں 11 دسمبر کو ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں 12 سے 13 مشران شریک تھے۔ جرگہ صوبائی حکومت اور بعض دیگر فریقین سے بھی ملا، جس کے بعد مائیگریشن پیکیج طے پایا اور اس کی دستاویزات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کے پورے عمل میں فوج یا دیگر دفاعی اداروں کا کوئی کردار نہیں۔ ماضی میں علاقے میں آپریشن کے بعد فوج آئی ڈی پیز کی واپسی کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں سے نکل چکی ہے، تاہم آج بھی علاقے میں بنیادی سہولیات جیسے اسپتال، اسکول اور تھانے موجود نہیں، حالانکہ جرگے کے ساتھ ان سہولیات کی فراہمی پر اتفاق ہوا تھا۔
خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ علاقے میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ رقبے پر ہیمپ (بھنگ) کی کاشت ہو رہی ہے، جس سے بھاری منافع حاصل ہوتا ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن یا تو بااثر سیاسی عناصر یا ٹی ٹی پی تک پہنچتی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اسکول، تھانے اور ریاستی رٹ قائم کرنا چاہتی ہے، جس کی مخالفت بعض مفاد پرست عناصر کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت کے بعض حلقوں کے مفادات ٹی ٹی پی سے جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے اس معاملے کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سویلین حکومت اور جرگہ مل کر مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ایک ایسے آپریشن کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وادی تیراہ مکمل طور پر برف سے ڈھک جاتی ہے، جہاں مستقل رہائش ممکن نہیں رہتی، اسی لیے نقل مکانی ناگزیر ہوتی ہے، تاہم علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔
فاٹا انضمام کے حوالے سے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اسے واپس لینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے برطانوی دور کے آفیشل گزٹیئرز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1880ء میں بھی درج ہے کہ آفریدی اور اکاخیل قبائل سردیوں میں تیراہ ویلی سے ہجرت کیا کرتے تھے، جو اس عمل کے تاریخی ہونے کا ثبوت ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کے اعلان کردہ چار ارب روپے کے پیکیج میں سے متاثرین کو عملی طور پر کتنا فائدہ پہنچا؟ انہوں نے کہا کہ ڈی سی کے مطابق نقل مکانی رضاکارانہ ہے اور اس کا پاک فوج یا وفاقی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان افراد کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔