آزاد کشمیر کے 3 اضلاع میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر، پولنگ جاری

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2026 کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جہاں میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر میں ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہے ہیں۔ انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت بھی عروج پر پہنچ گیا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران ووٹرز اپنے مقررہ پولنگ اسٹیشنز پر جا کر حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے تمام انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے ہیں۔

14 لاکھ سے زائد ووٹرز فیصلہ کریں گے

میرپور ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 14 لاکھ ایک ہزار 439 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ ان میں 7 لاکھ 25 ہزار 118 مرد جبکہ 6 لاکھ 75 ہزار 628 خواتین ووٹرز شامل ہیں، جو اپنے اپنے حلقوں میں آئندہ پانچ برس کے لیے عوامی نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

ہزاروں پولنگ اسٹیشنز قائم

الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے لیے ڈویژن بھر میں 2 ہزار 454 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے ہیں۔ ضلع میرپور کے 4 حلقوں میں 597، ضلع کوٹلی کے 6 حلقوں میں 1107 جبکہ ضلع بھمبر کے 3 حلقوں میں 608 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں تاکہ ووٹرز کو سہولت کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

296 امیدوار میدان میں

انتخابات کے پہلے مرحلے میں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں موجود ہیں، جبکہ آزاد امیدوار بھی بھرپور انداز میں انتخابی مہم کے بعد ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 296 امیدوار ان 13 نشستوں پر قسمت آزما رہے ہیں۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات

انتخابی عمل کو پرامن رکھنے کے لیے حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ضلعی انتظامیہ مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے واضح کیا ہے کہ ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے، بدامنی پھیلانے یا انتخابی ماحول خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان نے کہا ہے کہ تمام ریاستی ادارے آزاد، منصفانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور امن و امان خراب کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

عوامی نظریں نتائج پر

پہلے مرحلے کی پولنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پورے آزاد کشمیر کی نظریں میرپور ڈویژن کے انتخابی میدان پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی، جس کے بعد ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آئیں گے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے کے نتائج آئندہ مرحلوں کی انتخابی فضا پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

عوامی ردِعمل

ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والے شہریوں نے امید ظاہر کی کہ انتخابات شفاف، منصفانہ اور پرامن انداز میں مکمل ہوں گے تاکہ عوام کی حقیقی رائے سامنے آ سکے۔ مختلف پولنگ اسٹیشنز پر صبح سے ہی ووٹرز کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ خواتین ووٹرز کی بھی قابلِ ذکر تعداد پولنگ کے عمل میں حصہ لے رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات نہ صرف مقامی سیاست بلکہ خطے کی مجموعی سیاسی سمت کے تعین میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ میرپور ڈویژن کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت کو آئندہ مراحل میں نفسیاتی برتری حاصل ہو سکتی ہے، اسی لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے ان حلقوں میں اپنی بھرپور انتخابی قوت جھونک رکھی ہے۔