رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ Iran نے Pakistan کو آگاہ کیا ہے کہ وہ United States کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران سفارتی ذرائع سے تنازع کا حل نکالنے کا خواہاں ہے، تاہم مذاکرات ایک طے شدہ مفاہمتی فریم ورک کے تحت آگے بڑھنے چاہئیں۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ دونوں فریق پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی شرائط کے مطابق آگے بڑھیں۔
مذاکرات کے تین اہم مراحل
ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات کے لیے تین بنیادی نکات تجویز کیے ہیں۔
پہلے مرحلے میں Strait of Hormuz اور اس سے متعلق سکیورٹی معاملات پر بات چیت کی جائے، دوسرے مرحلے میں ایران کے منجمد مالی اثاثوں کا مسئلہ زیر غور آئے، جبکہ آخری مرحلے میں ایرانی جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں۔
نئی راہداری کی مخالفت
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے کسی نئی راہداری کے قیام کے اقدام کی حمایت نہیں کرتا اور اس تجویز کو مسترد کرتا ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا پس منظر
رپورٹ کے مطابق 17 جون 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بعد تقریباً چار دہائیوں میں پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے۔
ان مذاکرات میں پاکستان اور Qatar نے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ پاکستانی قیادت، قطری حکام اور دونوں ممالک کے اعلیٰ نمائندے اس سفارتی عمل میں شریک ہوئے تھے۔
مذاکرات کیوں رکے؟
رپورٹ کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور دوحہ میں ہوا، جبکہ تیسرا دور اسلام آباد میں ہونا تھا، لیکن اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے آغاز کے باعث مذاکراتی عمل معطل ہو گیا۔
بعد ازاں Donald Trump اور ایرانی حکام نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے، جس کے نتیجے میں سفارتی عمل مزید تعطل کا شکار ہوگیا۔
سفارت کاری کی نئی امید
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پہلے کے مقابلے میں مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہا ہے اور سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کی معطلی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اس نے پہلے فوجی کارروائیاں شروع کیں، تاہم تہران اب بھی سفارتی ذرائع سے تنازع کا حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن دباؤ یا دھمکی کے تحت کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔
اگر یہ سفارتی پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو پاکستان ایک بار پھر امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان گہرے عدم اعتماد، علاقائی سلامتی کے خدشات اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات مذاکرات کی کامیابی کے لیے اب بھی بڑے چیلنجز سمجھے جا رہے ہیں۔
نوٹ: اس خبر میں بیان کردہ نکات عرب میڈیا کی رپورٹ اور اس میں شامل ذرائع سے منسوب دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق اس متن میں موجود نہیں ہے۔