معروف عالم دین اور سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے رمضان المبارک 1447 ہجری (2026) کے لیے صدقہ فطر، فدیہ صوم اور کفارہ صوم کی کم از کم مقدار کا اعلان کر دیا ہے۔
ان کے مطابق صدقہ فطر اور ایک روزے کا فدیہ کی کم از کم رقم فی شخص 300 روپے ہے (گندم کے آٹے کے نصاب پر مبنی)۔ صاحب استطاعت افراد کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق زیادہ ادا کرنا چاہیے تاکہ مستحقین کو بہتر فائدہ پہنچے۔
مختلف اجناس کے نصاب کی تفصیل یہ ہے:
- گندم کا آٹا 2 کلو (چکی والا): صدقہ فطر اور ایک روزے کا فدیہ 300 روپے
- جو 4 کلو: صدقہ فطر اور ایک روزے کا فدیہ 1160 روپے
- کھجور 4 کلو: صدقہ فطر اور ایک روزے کا فدیہ 2800 روپے
- کشمش عمدہ 4 کلو: صدقہ فطر اور ایک روزے کا فدیہ 7200 روپے
کفارہ صوم (جان بوجھ کر روزہ توڑنے کا) کے لیے 60 مسلسل مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا لازم ہے۔ اس کی مالی مقدار یہ ہے:
- گندم کا آٹا 2 کلو (چکی والا): 18,000 روپے
- جو 4 کلو: 69,600 روپے
- کھجور 4 کلو: 168,000 روپے
- کشمش 4 کلو: 432,000 روپے
مفتی صاحب نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ خوش دلی سے زیادہ دینا بہتر ہے (سورۃ البقرہ: 184)۔
فدیہ صرف دائمی مریضوں یا انتہائی کمزور عمر رسیدہ افراد پر ہے جو روزہ رکھنے سے قاصر ہوں اور صحت یابی کے امکانات نہ ہوں۔ عارضی مریض یا مسافر پر قضا روزے واجب ہیں، فدیہ ان کا متبادل نہیں۔
اگر کوئی شخص بغیر شرعی عذر کے روزہ توڑ دے تو اس پر 60 مسلسل روزے رکھنا اور ایک روزے کی قضا لازم ہے۔ اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو مالی کفارہ ادا کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مارکیٹ میں اجناس کی قیمتیں اور کوالٹی تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے قیمتوں میں معمولی کمی بیشی ممکن ہے۔