امریکی سفیر کا اسرائیل کے لیے وسیع علاقائی دعویٰ، خدا کی عطا کردہ زمین پر مکمل قبضہ درست ہے

اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو کے دوران یہ اظہار کیا ہے کہ اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کے بڑے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کر لے تو انہیں اس سے کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔

ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے یہ بیان امریکی تجزیہ نگار ٹکر کارلسن کے پروگرام میں دیا، جہاں کارلسن نے اسرائیل کی ممکنہ جغرافیائی حدوں کے حوالے سے ان پر دباؤ ڈالا تو انہوں نے بائبل کی ایک آیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے یہ اراضی اسرائیلیوں کو عطا کی ہے اور پورے علاقے پر قبضہ کرنا اسرائیل کا جائز حق ہے، اسرائیل کا دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کے علاقوں پر قبضہ جائز ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا خیال بنیادی طور پر گریٹر اسرائیل کے انتہا پسندانہ نظریے سے وابستہ ہے جو لبنان سے سعودی عرب کے ریگستانوں تک اور بحیرہ روم سے عراق کے دریائے فرات تک کے علاقے کو شامل کرتا ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے سال مائیک ہکابی کو اسرائیل میں امریکا کا سفیر تعینات کیا تھا۔

یہ واضح ہے کہ اس سے پہلے مغربی کنارے یعنی ویسٹ بینک میں اراضی کو نام نہاد ریاستی اراضی قرار دینے کے اسرائیلی فیصلے پر دنیا بھر کے تقریباً 100 ملکوں اور تین اہم عالمی و علاقائی اتحادوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے یعنی ویسٹ بینک میں اراضی کو ریاستی ملکیت قرار دینے سے متعلق اپنا تازہ اقدام واپس لے لے، جسے انہوں نے غیر قانونی قرار دیا ہے اور خطے کے لیے عدم استحکام کا سبب بتایا ہے