ایران پر امریکی فضائی حملوں کا دعویٰ، قشم اور آبادان دھماکوں سے گونج اٹھے

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی افواج پر کیے گئے مبینہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے جواب میں کی گئی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد خطے میں تعینات امریکی افواج، خلیجی اتحادی ممالک اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا تھا۔

کن اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا؟

سینٹ کام کے بیان کے مطابق فضائی کارروائی کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی مراکز اور بحری عسکری صلاحیتوں سے متعلق متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے مخصوص فوجی تنصیبات تک محدود تھے، تاہم حملوں کے نتائج یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

قشم اور آبادان میں دھماکوں کی اطلاعات

دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق جمعرات کی صبح جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جزیرہ قشم اور آبادان کے اطراف کئی مقامات پر میزائل حملے کیے گئے۔

صوبہ ہرمزگان کے نائب گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چار بجے قشم جزیرے کے قریب ایک مقام کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا۔

اسی طرح ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے صوبہ خوزستان کے ایک عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آبادان شہر کے اطراف بھی امریکی میزائل حملے کیے گئے۔

نقصانات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں

ایرانی حکام نے ابھی تک ان حملوں میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی کارروائی کے اثرات یا نقصانات کے حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ فضائی حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی تناؤ خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع اب بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر زور دے رہے ہیں، تاہم حالیہ فضائی حملوں اور جوابی بیانات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ صورتحال بدستور انتہائی نازک ہے۔

نوٹ: اس خبر میں امریکی فضائی حملوں، ان کے اہداف اور نتائج سے متعلق معلومات امریکی حکام اور ایرانی میڈیا کے الگ الگ دعوؤں پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس متن میں موجود نہیں ہے۔