کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایک بار پھر دنیا میں امن کے عالمی پیغام کو اجاگر کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پوپ لیو نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ جنگ کو فروغ دینے والے یہ حقیقت سمجھنے میں ناکام ہیں کہ تباہی چند لمحوں میں آ جاتی ہے، جبکہ تعمیرِ نو میں پوری زندگیاں صرف ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے جنگ کی تباہ کاریوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا چند آمرانہ سوچ رکھنے والے رہنماؤں کے باعث تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کرنے والے دراصل ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
پوپ لیو نے مزید کہا کہ دنیا میں جنگ اور تباہی پر بے پناہ وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ صحت، تعلیم اور بحالی جیسے بنیادی شعبے مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مذہب کے غلط استعمال پر بھی شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر اپنے سیاسی، معاشی اور عسکری مفادات کے لیے مذہب اور خدا کے نام کو استعمال کر رہے ہیں، جو ایک نہایت خطرناک رجحان ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ اگرچہ دنیا چند ظالم قوتوں کے باعث مسائل کا شکار ہے، لیکن یہی دنیا بے شمار ہمدرد اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے لوگوں کی وجہ سے قائم بھی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگوں کے بجائے انسانی بھائی چارے، پائیدار ترقی اور امن کو اپنی ترجیح بنائے۔
یاد رہے کہ پوپ لیو اس سے قبل ایران جنگ پر بھی تنقید کر چکے ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پوپ لیو کو خارجہ پالیسی کے معاملات کا علم نہیں۔