سمندر کے وسط میں واقع ایک ویران جزیرہ، جسے دنیا برسوں سے ’’پیڈوفائل آئی لینڈ‘‘ یا عیاشی کے اڈے کے طور پر جانتی ہے۔ ایک نجی چارٹرڈ طیارہ، جسے ’’لولیتا ایکسپریس‘‘ کا نام دیا گیا، اور جس میں سفر کرنے والوں میں عالمی سیاست، کاروبار اور شوبز کی نامور شخصیات شامل رہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے دنیا کے سب سے خوفناک جنسی استحصال نیٹ ورک کو جنم دیا۔
اس جزیرے کے بند دروازوں کے پیچھے ایسے جرائم وقوع پذیر ہوتے رہے جنہوں نے انسانیت کو شرمسار کر دیا۔ مختلف ذرائع اور عدالتی دستاویزات کے مطابق، معاشی طور پر کمزور گھرانوں سے تعلق رکھنے والی 14 سے 17 سال کی کم عمر لڑکیوں کو ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے یہاں لایا جاتا، جہاں طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کے سائے میں قانون کو پامال کیا جاتا رہا۔ اس پورے نیٹ ورک کا مرکزی کردار امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین تھا۔
جیفری ایپسٹین کی زندگی بظاہر ایک غیر معمولی کامیابی کی کہانی دکھائی دیتی ہے۔ نیویارک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے ایپسٹین نے عملی زندگی کا آغاز ایک اسکول ٹیچر کے طور پر کیا، تاہم بغیر کسی نمایاں تعلیمی اسناد کے وال اسٹریٹ تک رسائی اور عالمی اشرافیہ میں جگہ بنانا آج بھی سوالیہ نشان ہے۔ وقت کے ساتھ وہ دنیا کے بااثر ترین افراد کے قریب ہوتا چلا گیا۔
ایپسٹین کی اس پراسرار دنیا میں اس کی قریبی ساتھی غسلین میکسویل کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ غسلین، برطانوی میڈیا ٹائیکون رابرٹ میکسویل کی بیٹی تھیں۔ رابرٹ میکسویل کی متنازع موت کے بعد، غسلین نے ایپسٹین کو وہ سماجی اور سیاسی رسائی فراہم کی جو عام افراد کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ تفتیشی رپورٹس کے مطابق، اسی تعلق کے نتیجے میں ایک ایسا نظام تشکیل پایا جس میں استحصال، بلیک میلنگ اور خاموش معاہدے شامل تھے۔
ایپسٹین کے روابط ہالی ووڈ ستاروں سے لے کر سابق امریکی صدور، معروف ٹیکنالوجی ماہرین اور عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ اگرچہ ان روابط کا مطلب براہِ راست جرم نہیں، لیکن متاثرہ افراد کے بیانات اور سفری ریکارڈز نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا۔
قانون سے بچ نکلنے کی ایپسٹین کی صلاحیت بھی غیر معمولی رہی۔ 2008 میں اس کے خلاف شواہد سامنے آنے کے باوجود، ایک متنازع عدالتی معاہدے کے تحت وہ سخت سزا سے بچ نکلا۔ تاہم 2019 میں دوبارہ گرفتاری کے بعد، مقدمے کی سماعت سے قبل ہی وہ جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ خودکشی تھی، لیکن حالات و شواہد نے اس دعوے کو عالمی سطح پر متنازع بنا دیا۔
ایپسٹین کی موت کے بعد متاثرہ خواتین کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں وہ عدالتی دستاویزات منظرِ عام پر آئیں جنہیں ’’ایپسٹین فائلز‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان فائلوں میں متعدد عالمی شخصیات کے نام سامنے آئے، جن میں برطانوی شاہی خاندان کے ایک رکن پر براہِ راست الزامات بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر ناموں کا ذکر مختلف پس منظر میں کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران بعض مالیاتی ریکارڈز اور مشکوک اکاؤنٹس پر بھی سوالات اٹھے، اگرچہ ان سے متعلق حتمی ثبوت سامنے نہیں آ سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیس اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح طاقتور طبقات قانونی معاہدوں، خفیہ ادائیگیوں اور عدم انکشاف معاہدوں (NDAs) کے ذریعے برسوں تک سچ کو دبائے رکھتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور میں تاہم تاریخ کو مکمل طور پر دفن کرنا ممکن نہیں رہا۔ ایپسٹین فائلز کا منظرِ عام پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ محض چند افراد تک محدود نہیں، بلکہ ایک وسیع نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ سچ سامنے آئے گا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کب اور کس حد تک۔