تہران:ایران کی فوجی قیادت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم زلفغاری نے اپنے بیان میں امریکا کو دوٹوک پیغام دیا۔
ایرانی خبر ایجنسی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق زلفغاری نے امریکی دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام نہ دیا جائے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، نہ تو تیل کی قیمتیں سابق سطح پر واپس آئیں گی اور نہ ہی خطے میں پہلے جیسا استحکام بحال ہو سکے گا۔
انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا خیال ترک کرنا ہوگا۔
زلفغاری نے مزید کہا کہ ایران کا مؤقف ابتدا سے واضح ہے اور آئندہ بھی برقرار رہے گا کہ وہ امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق متضاد دعوے گردش کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
18