’وقفے وقفے سے فاقہ‘ ہر کسی کے لیے مؤثر نہیں، نئی تحقیق نے اہم حقائق سامنے رکھ دیے

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

دنیا بھر میں وزن کم کرنے کے لیے مقبول غذائی حکمتِ عملی Intermittent Fasting یعنی ’وقفے وقفے سے فاقہ‘ سے متعلق نئی تحقیق نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ طریقہ ہر فرد کے لیے یکساں مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق صرف کھانے کے اوقات محدود کرنے سے نہ تو لازمی طور پر وزن کم ہوتا ہے اور نہ ہی میٹابولزم میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق Intermittent Fasting کی مختلف اقسام، جیسے 16:8 ڈائٹ اور 5:2 پلان، اس تصور پر مبنی ہیں کہ مخصوص اوقات یا دنوں میں خوراک محدود کی جائے۔ اسی طرح Time-Restricted Eating (TRE) میں روزانہ کھانے کے دورانیے کو 10 گھنٹے یا اس سے کم تک محدود رکھا جاتا ہے جبکہ باقی وقت فاقہ کیا جاتا ہے۔

جرمن تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

German Institute of Human Nutrition کی نئی تحقیق میں زائد الوزن یا موٹاپے کا شکار 31 خواتین کو شامل کیا گیا۔ تحقیق کے دوران شرکاء کو دو مختلف ٹائم ریسٹرکٹڈ ایٹنگ شیڈولز پر عمل کروایا گیا۔

ایک گروپ نے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کھانا کھایا، جبکہ دوسرے گروپ نے دوپہر 1 بجے سے رات 9 بجے تک خوراک لی۔ دونوں گروپس کو تقریباً ایک جیسی کیلوریز اور غذائیت فراہم کی گئی تاکہ صرف وقت کے فرق کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

تحقیق کے دوران خون کے نمونے، جسمانی ردعمل، انسولین حساسیت، بلڈ شوگر اور جسم کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی یعنی Circadian Rhythm کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔

نتائج نے کیا ثابت کیا؟

نتائج سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کھانے کے اوقات جسمانی گھڑی پر کچھ اثر ضرور ڈالتے ہیں، لیکن انسولین حساسیت، بلڈ شوگر، خون میں چربی یا سوزش کے اشاریوں میں کوئی نمایاں طبی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

تحقیق کی سربراہ Olga Ramich کے مطابق وزن کم کرنے یا میٹابولزم بہتر بنانے کے لیے صرف کھانے کا وقت اہم نہیں بلکہ مجموعی کیلوریز کا توازن بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں نظر آنے والے فوائد دراصل غیر ارادی طور پر کیلوریز کم ہونے کا نتیجہ تھے، نہ کہ صرف فاقے کے دورانیے کا۔

ہر جسم کا ردعمل مختلف

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر فرد کا جسمانی نظام، جینیاتی ساخت اور روزمرہ معمولات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے Intermittent Fasting کے اثرات بھی ہر شخص پر مختلف انداز میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔

کچھ افراد کے لیے یہ طریقہ مفید ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ بعض لوگوں میں زیادہ بھوک، کمزوری یا فاقے کے بعد زیادہ کھانے کی عادت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے وزن کم ہونے کے بجائے بڑھ بھی سکتا ہے۔

مشہور شخصیات نے بھی مقبول بنایا

Jennifer Aniston، Halle Berry اور Kourtney Kardashian جیسی معروف شخصیات نے اس طرزِ غذا کو دنیا بھر میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کئی افراد اسے وزن کم کرنے، Type 2 Diabetes کے خطرے میں کمی اور آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔

تاہم ماہرین اب بھی اس کے طویل مدتی فوائد اور ممکنہ نقصانات پر متفق نہیں۔ بعض تحقیقات میں دل کے امراض، فالج اور قبل از وقت موت جیسے خدشات پر بھی بحث کی گئی ہے۔

ماہرین کا مشورہ

صحت ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کے لیے صرف کھانے کا وقت بدلنا کافی نہیں، بلکہ متوازن غذا، مناسب کیلوری کنٹرول، جسمانی سرگرمی اور مستقل صحت مند طرزِ زندگی ہی اصل کامیابی کی کنجی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی ڈائٹ یا فاسٹنگ پلان کو اپنانے سے پہلے ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ جسمانی ضروریات کے مطابق محفوظ اور مؤثر طریقہ اختیار کیا جا سکے۔