(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت میں پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی، خصوصاً Strait of Hormuz میں پیش آنے والے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی سیاسی بحران کا حل فوجی طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، اور پائیدار امن کیلئے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
عباس عراقچی نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی ثالثی نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں تعطل کا شکار سفارتی عمل میں پیش رفت ممکن ہوئی۔
انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ ایسے عناصر سے محتاط رہے جو خطے کو دوبارہ کسی بڑے تنازع میں دھکیل سکتے ہیں، جبکہ بالواسطہ طور پر دیگر علاقائی ممالک کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی منصوبے ’پروجیکٹ فریڈم‘ پر تنقید کرتے ہوئے اسے مسئلے کے حل کے بجائے تعطل کا سبب قرار دیا اور اسے ’پروجیکٹ ڈیڈ لاک‘ سے تعبیر کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان ایک اہم سفارتی اشارہ ہے، جس میں ایک طرف مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے تو دوسری جانب دباؤ اور خدشات بھی واضح کیے گئے ہیں، اور یہی توازن موجودہ صورتحال کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ کے بجائے مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ رہ گیا ہے، اور پاکستان اس عمل میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔