دنیا کے سب سے اہم سمندری راستوں میں شمار ہونے والا آبنائے ہرمز اس وقت ایک ایسے بحران کی زد میں ہے جس نے عالمی تجارت اور بحری نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ہزاروں ملاح سمندر کے درمیان غیر یقینی حالات میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تقریباً دو ہزار بحری جہاز راستے میں رک گئے ہیں۔ ان جہازوں پر موجود تقریباً بیس ہزار ملاح اس وقت شدید مشکلات اور محدود سہولیات کے ساتھ سمندر میں موجود ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال بگڑ گئی، جس کے اثرات براہِ راست اس اہم تجارتی گزرگاہ پر پڑے۔ متاثرہ جہازوں میں تیل اور گیس بردار ٹینکرز، کارگو شپ، بلک کیریئرز اور سیاحتی کروز جہاز شامل ہیں۔
IMO کے مطابق جاری کشیدگی کے دوران اب تک کم از کم انیس حملوں کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں، جن میں دس ملاح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ ادارے نے مزید بتایا کہ کئی جہازوں پر موجود عملے کو خوراک، پینے کے پانی اور ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس سے ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
میری ٹائم سیفٹی ڈویژن کے ڈائریکٹر ڈیمین شیوالیے نے صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید دور میں اتنی بڑی تعداد میں بحری عملے کا ایک ساتھ پھنس جانا اپنی نوعیت کا ایک نادر اور تشویشناک واقعہ ہے، جو عالمی بحری نظام کے لیے بڑے خطرے کی علامت ہے۔
بین الاقوامی تنظیم نے تمام متعلقہ فریقین سے فوری اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ سمندر میں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات جلد بہتر نہ ہوئے تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل، توانائی کی سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔