امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے ابراہم لنکن کو تعینات کر دیا

اسلام آباد/واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے جہاں امریکا کا جدید طیارہ بردار بحری بیڑہ ابراہم لنکن خطے کی سمندری حدود میں داخل ہو چکا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس کیریئر اسٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے، میزائل کروزر اور جدید ڈسٹرائرز شامل ہیں جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم امریکی اتحادی ممالک نے فی الحال فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر زور دیا ہے۔

اس کے باوجود امریکی فوج نے خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی مشقیں کرنے جا رہی ہے جن سے پہلے ہی کشیدہ ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے جمعرات کے روز بحری بیڑے کو ایران کی سمت روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب ایران نے امریکی دباؤ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور امریکی جنگی جہازوں کی آمد ایرانی قوم کے دفاع کو متاثر نہیں کر سکتی۔

 بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابراہم لنکن کی تعیناتی ایک واضح دباؤ کی حکمت عملی ہے جو ایران کو مزید احتیاط پر مجبور کر سکتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیڑہ ایران کی بحری افواج کے لیے شدید خطرہ ہے مگر یہ جنگ کی طرف نہیں بلکہ سفارتی دباؤ کا حصہ لگتا ہے۔ تاہم اگر کشیدگی بڑھی تو خلیج فارس میں تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

 ابراہم لنکن کی مشرق وسطیٰ میں آمد ایک بار پھر یہ یاد دلاتی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کبھی بھی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کا اعلان اور یہ تعیناتی سفارتی دباؤ کی ایک کڑی ہے مگر یہ علاقائی استحکام کے لیے خطرناک ہے۔

ایران کا سخت موقف یہ بتاتا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کو فوری طور پر سفارتی سطح پر امن کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں کیونکہ یہ تناؤ تیل کی قیمتوں، معیشت اور علاقائی سلامتی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں پر لگام دے۔

آپ کو یہ تعیناتی کیسی لگی؟ کیا یہ جنگ کی طرف اشارہ ہے یا صرف دکھاوا؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!