فلم دھرندھر کے اداکار پر زیادتی کا الزام، پولیس نے گرفتار کر لیا

ممبئی (انٹرٹینمنٹ اینڈ کرائم ڈیسک – غلام مرتضیٰ) بالی ووڈ کی حالیہ بلاک بسٹر فلم ‘دھرندھر’ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار ندیم خان کو ممبئی پولیس نے گھریلو ملازمہ سے مبینہ طور پر ۱۰ سال تک جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری 22 جنوری کو ایک 41 سالہ خاتون کی درج کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون ماضی میں کئی بالی ووڈ اداکاروں کے گھروں میں بطور ملازمہ کام کر چکی ہیں۔ ان کی ندیم خان سے کئی برس قبل جان پہچان ہوئی تھی۔

شکایت کے مطابق ندیم خان نے خاتون سے شادی کا وعدہ کیا اور اسی وعدے کی بنیاد پر گزشتہ ۱۰ سالوں کے دوران متعدد بار ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ یہ واقعات مالوانی میں خاتون کی رہائش گاہ اور ورسوا میں ندیم خان کے گھر پر پیش آئے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کے بیان کی بنیاد پر انہوں نے مقدمہ درج کیا اور ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد ندیم خان کو عدالت میں پیش کیا جہاں انہیں ریمانڈ پر بھیجا گیا۔

 بالی ووڈ کے قانونی ماہرین اور خواتین حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صنفی استحصال اور پاور ڈائنامکس کا سنگین کیس ہے۔ مشہور شخصیات کے گھروں میں کام کرنے والی ملازمین اکثر خاموش رہتی ہیں کیونکہ انہیں معاشی کمزوری اور سماجی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ گرفتاری بالی ووڈ میں طاقت کے غلط استعمال کے خلاف ایک اہم قدم ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

 ندیم خان کی گرفتاری بالی ووڈ کی چمک دمک کے پیچھے چھپے تاریک پہلوؤں کو ایک بار پھر بے نقاب کرتی ہے۔ فلم ‘دھرندھر’ جیسے بڑے پروجیکٹس میں کام کرنے والے اداکاروں کے خلاف ایسے الزامات سامنے آنا یہ بتاتا ہے کہ شہرت اور طاقت کا غلط استعمال کتنا عام ہو چکا ہے۔

متاثرہ خاتون کا ۱۰ سال تک خاموش رہنا اور پھر آواز اٹھانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کو آگے آنے میں کتنا خوف اور دباؤ درپیش ہوتا ہے۔ پولیس کی فوری کارروائی قابلِ تحسین ہے مگر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ مقدمہ عزت اور انصاف تک پہنچے گا یا پھر بالی ووڈ کی طاقت اور اثر و رسوخ کے سامنے دب جائے گا۔

یہ کیس نہ صرف ایک انفرادی واقعہ ہے بلکہ بالی ووڈ میں ملازمین اور کمزور طبقات کے استحصال کی ایک بڑی تصویر ہے۔ امید ہے کہ اس سے صنفی انصاف کے لیے ایک نئی بحث شروع ہوگی اور متاثرین کو ہمت ملے گی کہ وہ آواز اٹھائیں۔

آپ کو یہ واقعہ کیسا لگا؟ کیا بالی ووڈ میں طاقت کے غلط استعمال کے خلاف سخت قوانین کی ضرورت ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!