ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی شرکت کا فیصلہ چند روز بعد ہوگا،چیئرمین پی سی بی

اسلام آباد (اسپورٹس ڈیسک – غلام مرتضیٰ) چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ۲۰۲۶ میں پاکستان کی شرکت کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور یہ چند روز میں طے ہو جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ملاقات انتہائی مثبت رہی اور وزیراعظم کو آئی سی سی کے معاملے پر مکمل بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے تمام آپشنز کو زیر نظر رکھتے ہوئے معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ جمعہ یا آئندہ پیر تک ہو جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کر لیا گیا ہے مگر اسے حتمی شکل دینے کے لیے سیاسی اور انتظامی سطح پر مزید مشاورت جاری ہے۔

ملاقات میں زیر غور آنے والے اہم آپشنز میں شامل تھے:

  • بنگلادیش کو میگا ایونٹ سے باہر نکالے جانے پر احتجاجاً ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ
  • بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار
  • پاکستانی ٹیم کے تمام میچز میں سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت
  • ورلڈ کپ میں جیت کو بنگلادیش کرکٹ فینز کے نام کرنے کی تجویز

یاد رہے کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ بنگلادیش کا مؤقف تھا کہ جس ملک کے سیکیورٹی اداروں سے ایک کھلاڑی کی حفاظت ممکن نہیں، وہاں پوری ٹیم کی حفاظت کیسے ہوگی۔

آئی سی سی نے بنگلادیش کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا جسے پاکستان نے دوہرا معیار قرار دیا۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بنگلادیش کے اصولوں پر مبنی مؤقف کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان آئی سی سی کے دوہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔

 کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بائیکاٹ کا آپشن انتہائی مشکل ہے کیونکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں عدم شرکت پاکستان کی عالمی رینکنگ اور آئی سی سی کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تاہم سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت اور بنگلادیش کے حق میں بیانات دینا ایک متوازن اور مؤثر احتجاج ہو سکتا ہے۔

 یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک نازک موڑ ہے۔ ایک طرف بنگلادیش کے ساتھ یکجہتی اور آئی سی سی کے دوہرے معیار کے خلاف آواز اٹھانا اصولوں کی بات ہے، دوسری طرف ورلڈ کپ سے دستبرداری پاکستان کی عالمی ساکھ اور کرکٹ بورڈ کی مالی حالت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

محسن نقوی کا وزیراعظم سے مشاورت اور فیصلے میں تاخیر ایک دانشمندانہ قدم ہے۔ پاکستان کو ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جو بنگلادیش کی حمایت بھی کرے اور اپنے کرکٹ کے مفادات بھی محفوظ رکھے۔ سیاہ پٹیاں اور بنگلادیش فینز کے نام جیت کا اعلان ایک خوبصورت احتجاج ہو سکتا ہے جو عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کرے گا۔

بائیکاٹ کا فیصلہ اگر ہوا تو یہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہوگا۔ امید ہے کہ حتمی فیصلہ پاکستان کی عزت اور کرکٹ کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

آپ کو پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا کیا آپشن بہتر لگتا ہے؟ بائیکاٹ، سیاہ پٹیاں یا مکمل شرکت؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!