اسلام آباد (ویب ڈیسک – غلام مرتضیٰ) بابا وانگا (Vangelia Pandeva Gushterova)، جنہیں دنیا بھر میں درست پیش گوئیوں کی وجہ سے “نابینا نبیہ” کا لقب دیا جاتا ہے، ۱۹۹۶ میں انتقال کر گئیں۔ مگر ان کی پیش گوئیاں آج بھی ایک ایک کر کے حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور اسمارٹ آلات کے انسانی زندگی پر اثرات کی جو پیش گوئی کی تھی، وہ آج بالکل واضح طور پر سامنے آ رہی ہے۔
بابا وانگا نے برسوں قبل کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ روزمرہ زندگی میں مدد کے لیے چھوٹے چھوٹے آلات پر انحصار کرنے لگیں گے۔ یہ آلات نہ صرف کام آسان کریں گے بلکہ انسانوں کے ایک دوسرے سے رابطے اور باہمی تعلقات کے طریقوں کو بھی مکمل طور پر تبدیل کر دیں گے۔
آج یہ پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہے۔ بچے ہو یا بزرگ، ہر عمر کا شخص اسمارٹ فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ آلات اب کام، تعلیم، تفریح، رابطوں اور سماجی میل جول کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں۔ اسکرین ٹائم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور حقیقی زندگی کے رابطے کمزور پڑ رہے ہیں۔
بابا وانگا نے مزید کہا تھا کہ جیسے جیسے لوگ ان چھوٹے الیکٹرانک آلات پر زیادہ انحصار کریں گے، ویسے ویسے حقیقی تعلقات سے دوری بڑھے گی اور اس کے نتیجے میں ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ آج یہ بات بھی بالکل درست ثابت ہو رہی ہے۔
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی تحقیق کے مطابق بچوں میں اسمارٹ فون اور دیگر آلات کے استعمال سے جسمانی، رویہ جاتی اور سماجی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ تقریباً ۲۳.۸۰ فیصد بچے سونے سے پہلے بستر میں موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور یہ شرح عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حد سے زیادہ اسکرین ٹائم بے چینی، ڈپریشن، توجہ کی کمی (ADHD)، نیند کی خرابی اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔ بچے ماضی کے مقابلے میں باہر کھیلنے اور ہم عمر دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔
بابا وانگا کی دیگر مشہور پیش گوئیاں جن میں دوسری جنگ عظیم، ۱۱ ستمبر کے حملے اور ۲۰۰۴ کا سونامی شامل ہیں، درست ثابت ہو چکی ہیں۔ اب ٹیکنالوجی کے عروج اور اس کے منفی اثرات کی پیش گوئی بھی حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔
نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز نے زندگی کو آسان تو بنایا ہے مگر بے جا استعمال ایک وبائی شکل اختیار کر رہا ہے۔ بچوں اور نوجوانوں میں اسکرین ایڈکشن، سوشل موازنہ اور تنہائی کے احساس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ والدین اور سکولوں کو اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنی چاہیے اور حقیقی زندگی کے رابطوں کو فروغ دینا چاہیے۔
بابا وانگا کی یہ پیش گوئی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ انسانی فطرت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کی گہری سمجھ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ۲۰ویں صدی میں بیٹھ کر ۲۱ویں صدی کی ایک بڑی حقیقت کو دیکھ لیا تھا۔
آج اسمارٹ فون ہر جیب میں ہے مگر ذہنی صحت، خاندانی رشتوں اور بچوں کی نشوونما پر اس کے منفی اثرات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنا غلام بنائیں، نہ کہ خود اس کا غلام بن جائیں۔ بابا وانگا کی پیش گوئیاں ہمیں سبق دیتی ہیں کہ مستقبل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – یہ پہلے سے موجود ہوتا ہے، بس دیکھنے والا چاہیے۔
آپ کو بابا وانگا کی یہ پیش گوئی کیسی لگی؟ کیا آپ بھی اسمارٹ فون کے بے جا استعمال سے پریشان ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!