ٹرمپ کے ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے والاپہلا اسلامی ملک کون سا ہے؟

متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت قائم کیے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کی دعوت باضابطہ طور پر قبول کرلی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس فیصلے کا اعلان یو اے ای کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کے روز جاری ایک بیان میں کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات غزہ بورڈ آف پیس میں فعال شرکت اور عملی تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یو اے ای بورڈ آف پیس کے مشن میں مؤثر کردار ادا کرے گا اور عالمی سطح پر امن، تعاون، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
اس فیصلے کے بعد متحدہ عرب امارات نہ صرف پہلا مسلم ملک بن گیا ہے بلکہ اُن ابتدائی ممالک میں بھی شامل ہو گیا ہے جنہوں نے کھل کر اس امریکی امن اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل مراکش کے صدر بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرچکے تھے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ سرکاری اعلان سب سے پہلے متحدہ عرب امارات نے کیا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تحت ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے مطابق حماس کے بجائے ایک عالمی بورڈ کے ذریعے غزہ کے امورِ مملکت چلانے کی تجویز دی گئی ہے۔
بورڈ آف پیس کی سربراہی خود امریکی صدر کریں گے، جبکہ اس کے بانی اراکین میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیرِ خارجہ، صدر ٹرمپ کے داماد اور دیگر بین الاقوامی ٹیکنوکریٹس شامل ہیں۔
اب تک جن ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی پیشکش قبول کی ہے، ان میں پہلا یورپی ملک ہنگری ہے، جس نے غیر مشروط طور پر اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی اصولی طور پر بورڈ آف پیس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم حتمی فیصلہ چارٹر کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی شراب شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔