امریکی جنگی طیارے گرین لینڈ کس لے گئے؟ اصل وجہ سامنے آ گئی

واشنگٹن/اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں اور AI سے تیار کردہ ایک متنازع تصویر شیئر کرنے کے بعد اب امریکی جنگی طیاروں کی گھن گرج گرین لینڈ کے آسمانوں میں سنائی دے رہی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی فوج کے جنگی طیارے اب گرین لینڈ میں واقع امریکی فوجی اڈے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (نوراڈ) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اس تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلے سے طے شدہ دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور یہ معمول کی کارروائی ہے۔

نوراڈ نے مزید وضاحت کی کہ یہ تعیناتی ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ہو رہی ہے اور امریکی فورسز کو تمام ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں۔ طیارے شمالی امریکا کے فضائی دفاع اور معمول کی نگرانی کی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔

اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے کو بھیجے گئے خط میں کہا تھا کہ عالمی سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکا کو گرین لینڈ پر مکمل اور حتمی کنٹرول حاصل نہ ہو۔ ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ نوبیل امن انعام نہ ملنے کے بعد وہ اب خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں سمجھتے۔

امریکی صدر نے ایک AI سے تیار کردہ تصویر بھی شیئر کی جس میں وہ گرین لینڈ پر امریکی جھنڈا لہرا رہے ہیں۔ اس تصویر نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور بحث کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ نے ایک بار پھر اپنا سخت موقف دہرایا ہے کہ ان کی سرزمین نہ تو فروخت کے لیے ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کے حوالے کی جا سکتی ہے۔ دونوں نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے خودمختار نظام کی توثیق کی ہے۔

تاریخی پس منظر

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی بادشاہت کے اندر ایک خودمختار علاقہ ہے۔ ۱۹۵۱ میں امریکا اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا نے اس علاقے کو بیرونی جارحیت سے بچانے کی ذمہ داری لی تھی۔

۱۹۵۸ میں امریکا اور کینیڈا نے سرد جنگ کے آغاز پر نوراڈ کا قیام عمل میں لایا، جس کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور شمالی امریکا کا فضائی دفاع ہے۔ گرین لینڈ میں واقع پٹوفک اسپیس بیس (سابقہ تھولے ایئر فورس بیس) امریکا کا اہم فوجی اور مواصلاتی مرکز ہے جہاں میزائل وارننگ سسٹم بھی نصب ہے۔

 بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی اور ٹرمپ کا بیان جغرافیائی اور دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ گرین لینڈ آرکٹک میں اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور یہاں سے روس اور چین کی سرگرمیوں کی نگرانی آسان ہوتی ہے۔ تاہم ٹرمپ کا نوبیل اور امن سے متعلق بیان سیاسی دباؤ اور ذاتی مایوسی کا اظہار ہے جو سفارتی تناؤ بڑھا سکتا ہے۔

 ٹرمپ کا یہ بیان اور طیاروں کی تعیناتی ایک ہی وقت میں دو پیغام دے رہی ہے: ایک طرف دفاعی تیاری اور دوسری طرف سیاسی دباؤ۔ گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی خودمختاری پر حملہ ہے۔

نوبیل نہ ملنے کی مایوسی کو عالمی امن سے جوڑنا غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ دھمکیاں یورپ اور امریکا کے تعلقات کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کو اس تناؤ کے اثرات سے ہوشیار رہنا چاہیے جو عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

آپ کو ٹرمپ کی یہ دھمکی اور طیاروں کی تعیناتی کیسی لگی؟ کیا یہ صرف سیاسی بیان ہے یا واقعی کوئی بڑی پیش رفت ہونے والی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!